سٹی 42 : وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کی عوام کو ایسا ڈیلیوری نظام دینا چاہئے کہ جہاں انہیں گراس روٹ لیول پر سروسز میسر ہوں ۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں چیزیں ہوتی ہیں، فرض کریں کسی ایک صوبے میں کسی سیاسی جماعت کی حکومت نہیں رہتی، نئی حکومت کوئی آتی ہے وہ حالاتِ کے مطابق فیصلے کر لیتی ہے، اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ اسے کسی صوبے کے خلاف اقدام سمجھیں، یا صوبے کے مفادات کی نفی ہو ، یہ وفاق کی بھی نفی نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کا فیصلہ وفاق کو بھی مضبوط بنائے گا، صوبے کا الفظ لوگوں کے لیے مسئلہ ہے۔انتظامی یونٹ کا لفظ اگر استعمال کیا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔
کسی سیاسی جماعت کے مفادات کا تحفظ نہیں ہوگا۔ پاکستان کی عوام کو ایسا ڈیلیوری نظام دینا چاہئے کہ جہاں انہیں گراس روٹ لیول پر سروسز میسر ہوں ، یہ ایک اچھا اقدام ہے کہ پہلے اسلام آباد میں یہ نافذ ہو ، انڈیپینڈنٹ ادارہ قائم کیا جائے ۔
یہ چیز دنیا کے بہت سے دارلخلافوں میں موجود ہے ، وفاق میں پہلے اگر یہ نافذ ہو رہا ہے تو یہ باقی صوبوں کے لیے بھی انسینٹیو ہوگا، اس میں کوئی ہچکچاہٹ والی بات نہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان نے بہت کمزور حالات میں چونتیس یا پینتیس صوبے بنا دیئے ہیں