ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

وفاقی وزرا، حکومتی شخصیات اور اعلیٰ سرکاری افسروں سمیت ہزاروں پاکستانیوں کا تمام ڈیٹا انٹرنیٹ پر فروخت؛ وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایکشن لے لیا

وفاقی وزرا، حکومتی شخصیات اور اعلیٰ سرکاری افسروں سمیت ہزاروں پاکستانیوں کا تمام ڈیٹا انٹرنیٹ پر فروخت؛ وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایکشن لے لیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 ویب ڈیسک : وفاقی وزرا، حکومتی شخصیات اور اعلیٰ سرکاری افسروں  سمیت ہزاروں پاکستانیوں کا تمام ڈیٹا انٹرنیٹ پر فروخت ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ انٹرنیٹ پر درجنوں ویب سائٹس شہریوں کا ڈیٹا معمولی پیسوں عوض بیچنے میں مصروف ہیں، موبائل کی لوکیشن500 روپے، موبائل ڈیٹا ریکارڈ تفصیل2000 روپے، غیرملکی سفرکی تفصیل 5 ہزارمیں دستیاب ہے۔ جرائم پیشہ عناصرکسی بھی شہری کا ڈیٹا چند پیسوں میں خرید کر شہریوں کو مصیبت میں پھنسا سکتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق انٹرنیٹ پر موبائل سم مالک کا ایڈریس، کال ریکارڈ، شناختی کارڈ کی کاپی، بیرون ملک سفرکی تفصیلات سب کچھ فروخت کیا جارہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق وفاقی وزرا، اہم حکومتی شخصیات اور اعلی سرکاری افسران سمیت تمام پاکستانیوں کا ڈیٹا انٹرنیٹ پر فروخت ہورہا ہے۔وفاقی وزیرداخلہ، سے لے کر ترجمان پی ٹی اے تک ہرشخص کا ڈیٹا گوگل پر بیچے جانے کا انکشاف ہوا اور تمام ہی دستاویزات انٹرنیٹ پر موجود ہیں ،پی ٹی اے، این سی سی آئی اے سمیت تمام ادارے ڈیٹا کی فروخت پر خاموش ہیں۔

پی ٹی اے کی جانب سے خبرپر موقف دیا گیا تھا کہ ایسی سائٹس بند کردی گئی ہیں تاہم ایک سال بعد بھی شہریوں کا ڈیٹا بیچے جانے کا عمل جاری ہے۔رپورٹ کے مطابق انٹرنیٹ پر درجنوں ویب سائٹس شہریوں کا ڈیٹا معمولی پیسوں عوض بیچنے میں مصروف ہیں، موبائل کی لوکیشن500 روپے، موبائل ڈیٹا ریکارڈ تفصیل2000 روپے، غیرملکی سفرکی تفصیل 5 ہزارمیں دستیاب ہے۔ جرائم پیشہ عناصرکسی بھی شہری کا ڈیٹا چند پیسوں میں خرید کر شہریوں کو مصیبت میں پھنسا سکتے ہیں۔

وزیر داخلہ کا نوٹس، تحقیقاتی کمیٹی تشکیل

دوسری جانب وفاقی  وزیرداخلہ  محسن  نقوی  نے   نوٹس لیتے ہوئے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو معاملے کی تحقیقات اور اقدامات کی ہدایت کردی۔

اعلامیے کے مطابق وزیر داخلہ کی ہدایت پر این سی سی آئی اے نے کام شروع کردیا اور خصوصی  انویسٹی گیشن  ٹیم  تشکیل دے دی جو ڈیٹا  لیکج کے معاملے کی ہر پہلو  سے  تحقیقات  کرے گی۔ ترجمان وزارت داخلہ کے مطابق ڈیٹا  لیکج  میں ملوث  عناصر  کا تعین  کرکے قانونی  کارروائی  عمل  میں  لائی  جائے  گی۔ تحقیقاتی  ٹیم  14 روز میں  اپنی  رپورٹ  پیش  کرے گی۔