ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ٹک ٹاکر اورفین جسے لڑکا سمجھتے تھے وہ لڑکی نکلا

Tiktok, viral reels, Tiktoker arrested, Boy was in fact a girl
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  ٹک ٹاک میں مشہور ہو جانے والا لڑکا ایک خوبصورت لڑکی نکلا، انکشاف نے سوشل میڈیا میں کھلبلی مچا دی۔

 پولیس نے لڑکا بن کر ٹک ٹاکِنگ کرنے والی لڑکی کو گرفتار کر  لیا، اس گرفتاری کے لئے پولیس کو شکایت خود اس لڑکی کی والدہ نے کی۔ 

لڑکے کی حیثیت سے ٹک ٹاکنگ کرنے والی لڑکی کے گرفتار ہو جانے کی خبر نے سوشل میڈیا مین کھلبلی مچا دی ہے۔ سوشل میڈیا استعمال کرنے والے پاکستانیوں پر یہ انکشاف بجلی بن کر گرا کہ جسے وہ لڑکا سمجھتے رہے وہ ایک لڑکی ہے، اس سے زیادہ بڑا جھٹکا اس لرکی کی گرفتاری کی خبر نے لگایا۔
 
مالاکنڈ میں تحصیل بٹ خیلہ کے علاقے کوٹ میں ٹک ٹاک پر لڑکے  کی حیثیت سے مشہور ہو جانے والی لرکی، توزانہ دلچسپریلیں بنا کر ٹک ٹاک پر پوسٹ کر رہی تھی۔ اس کے مشہور ہو جانے پر والدہ بہت پریشان تھین کیونکہ خاندان اور جاننے والوں میں یہ بات پھیل گئی تھی اور منفی باتین ہو رہی تھیں۔

 ویڈیوز بنانے والی لڑکی کی والدہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے بیٹی کو بہت سمجھایا لیکن وہ لڑکا بن کر ویڈیو بنانے اور  ٹک ٹاک پر پوسٹ کرنے سے باز نہیں آ رہی، لڑکی کی والدہ نے آخر تھانے جا کر بیٹی کی شکایت کر دی۔  لڑکے کی حیثیت سے خود کو متعارف کروانے والی لڑکی کو اس کی والدہ کی شکایت پر فورس نے گرفتار کرلیا۔

پولیس کے مطابق والدہ نے شکایت درج کروائی تھی کہ ان کی بیٹی سوشل میڈیا پر خود کو لڑکا  بنا کر پیش کرتی ہے اور ویڈیوز بنا کر اپ لوڈ کرتی ہے۔ جس سے خاندان اور معاشرے میں منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔


والدہ نے بتایا کہ بارہا سمجھانے کے باوجود بیٹی نے اس عمل سے باز نہیں آئی، جس پر مجبورا ً تھانے میں رپورٹ درج کرانا پڑی۔


لیوی فورس نے کارروائی کرتے ہوئے لڑکی کو حراست میں لے کر تھانہ کوٹ منتقل کیا، جہاں ابتدائی تفتیش کے بعد اسے جیل بھیج دیا گیا۔


مزید پڑھیں: جماعتِ اسلامی اور پی ٹی آئی کے کارکنان آمنے سامنے، اصل معاملہ کیا ہے؟

 
ذرائع کے مطابق بعد ازاں والدہ کی منت سماجت، آئندہ سوشل میڈیا استعمال نہ کرنے کی یقین دہانی اور تحریری معاہدے کے بعد لیوی حکام نے لڑکی کو ضمانت پر رہا کردیا۔


تحقیقات کے دوران لڑکی نے اعتراف کیا کہ وہ تفریح کے مقصد سے ٹک ٹاک پر لڑکے کا روپ دھارتی تھی اور کسی کو نقصان پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔


پولیس نے والدین اور نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنائیں تاکہ ایسی سرگرمیوں سے معاشرتی اقدار اور روایات متاثر نہ ہوں۔