سٹی42: 26 نومبر کیس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور جنید اکبر کے وارنٹ گرفتاری نکل گئے۔ پولیس نے اسلام آباد میں گرفتاری کیلئے چھاپہ مارا تو آفریدی وہاں سے پشاور جا چکے تھے۔
پی ٹی آئی کے یہ دونوں رہنما 26 نومبر 2024 کو اسلام آباد میں ریاستی اداروں ور ویلین انتظامیہ کے خلاف ہونے والے خوفناک تشدد کے مقدمہ میں ملوث ہیں اور دونوں بار بار طلب کرنے کے باوجود مقدمہ کی سماعت کے لئے عدالت میں پیش نہین ہو رہے۔
اسلام آباد پولیس وارنٹ کے بعد گرفتاری کیلیے خیبرپختونخوا ہاؤس پہنچی تاہم عدم موجودگی پر بیلف موصول کرواکے چلی گئی
انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 26 نومبر جلاؤ گھیراؤ کیس میں خیبرپختونخوا کے موجودہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کے خیبر پختونخوا کے صوبائی صدر جنید اکبر کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کردیے۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت سے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے بعد پولیس سہیل آفریدی اور جنید اکبر کو گرفتار کرنے کیلیے اسلام آباد میں واقع خیبرپختونخوا ہاؤس پہنچ گئی۔
ذرائع کے مطابق عدالتی حکم کے بعد اسلام آباد پولیس کی نفری کے پی ہاؤس وارنٹ کے ساتھ پہنچی۔ وہاں خیبرپختونخوا ہاؤس کے عملے نے وارنٹ وصول کیے اور بتایا کہ اُس وقت سہیل آفریدی خیبر پختونخوا ہاؤس میں موجود نہیں تھے۔
ان وارنٹس پر خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور صوبائی صدر جنید اکبر کی ممکنہ گرفتاری کے حوالے سے خیبرپختونخوا ہاؤس پر پولیس ریڈ کی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔
صوبائی حکومت کے ترجمان نے بتایا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اس وقت پشاور میں ہیں، تھانہ سیکرٹریٹ کے ایس ایچ او بمعہ 5–6 اہلکاروں کے وارنٹِ گرفتاری کی تعمیل کے لیے آئے تھے، جس کے بعد وہ واپس چلے گئے۔