سٹی42: پاکستان اور افغانستان کے درمیان استنبول میں ہونے والے مذاکرات میں ڈیڈلاک آگیا ہے۔ پاکستان اپنے اصولی موقوف پر قائم ہے کہ افغانستان کی زمین سے ہونے والی دہشت گردی کو کنترول کرنے کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے۔
پاکستان نے مذاکرات میں ثالثی کرنے پر ترکیہ اور قطر کا شکریہ ادا کیا۔ یہ واضح نہیں کہ آج سے آگے مذاکرات کا مستقبل کیا ہو گا۔
وزیراطلاعات عطاء تاڑر نے پاکستان کا سرکاری مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا، افغان طالبان کی حکومت دوحہ امن معاہدے2021 میں کئےاپنے بین الاقوامی، علاقائی اور دوطرفہ وعدوں کی تکمیل میں اب تک ناکام رہی ہے۔پاکستان اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ افغان عوام سے خیر سگالی کا جذبہ رکھتا ہے اور ان کے لیے ایک پر امن مستقبل کا خواہش مند ہے ۔
اس کے ساتھ انہوں نے کہا، پاکستان طالبان حکومت کے ایسے اقدامات کی حمایت نہیں کرے گا جو افغان عوام یا پڑوسی ممالک کے مفاد میں نہ ہوں۔ پاکستان اپنی عوام اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔