سٹی42: وزیرداخلہ محسن نقوی نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کے سکیورٹی فورسز کے بارے میں شرانگیز بیان کی مذمت کی اور خبردار کیا کہ پاکستان کے بہادر سپوتوں کے بارے میں بے بنیاد اور حقائق سے منافی بیان ناقابل برداشت ہے۔
محسن نقوی نے کہا، وطن کی حفاظت اور شہریوں کی زندگیوں میں امن کے لئے جانیں نچھاور کرنے والے جری افسروں اور جوانوں کے بارے ایسا بیان کوئی محب وطن نہیں دے سکتا۔
محسن نقوی نے مزید کہا، خیبر ختونخوا کے وزیر اعلی خیبرپختونخوا نے ہرزہ سرائی کرکے پاکستان کے ازلی دشمن کو خوش کرنے کی کوشش کی ہے۔ پاکستانی سکیورٹی فورسز کی لازوال قربانیوں کی پوری دنیا اور پوری قوم معترف ہے۔
انہوں نے کہا، "سکیورٹی فورسز کے افسروں اور جوانوں نے قیمتی جانیں قربان کرکے امن کی آبیاری کی ہے۔ "
وزیر داخلہ نے کہا، جہاں سکیورٹی فورسز کے جوان سب سے زیادہ شہید ہوئے، اس صوبے کے وزیر اعلی نے احسان فراموشی کی تمام حدیں پار کیں۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ کوئی بھی محب وطن ایسا بیان دینے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔
محسن نقوی نے زور دے کر کہا کہ وزیراعلی خیبرپختونخوا کو سکیورٹی فورسز کے خلاف اشتعال انگیزی پر قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔
سہیل آفریدی نے کل کیا کچھ کہا تھا
سہیل آفریدی کل راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں اپنی پارٹی کے بانی سے ملنے کے لئے گئے تھے تو ان کی ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ اس دوران انہوں نے میڈیا کیمروں کے سامنے انتہائی بے ہودہ باتیں کیں جن کو سٹی42 نے اس لئے شائع نہیں کیا کہ وہ نہ صرف پاکستان کے قومی وقار اور مفادات کے خلاف تھیں بلکہ ان میں ایسے بہت سے افراد پر بے ہودہ الزامات تھوپے گئے تھے جن کے ناموں کے متعلق بھی الزام تھوپنے والا نہیں جانتا ۔ ان الزامات کا تعلق پاکستان کی افغانستان کی طالبان حکومت کے ساتھ چل رہی کشیدگی کے ساتھ براہ راست تعلق تھا۔
پاکستان ٹھوس شواہد اور حقائق کی بنیاد پر یہ کہتا ہے کہ افغانستان سے پاکستان میں دہشتگرد آ کر پاکستان کے عوام اور سکیورٹی فورسز پر حملے کرتے ہیں اور افغانستان میں موجود منشیات کے سمگلر بھی افغانستان سے پاکستان میں دراندازی کرواتے ہیں۔ سہیل آفریدی نے پاکستان کے ٹھوس بنیادوں پر استوار قومی نکتہ نظر اور بیانیہ کے برعکس صوبے میں تمام برائیوں کا ذمہ دار بھی سکیورٹی فورسز کو قرار دیا اور افغان سرحد سے در اندازیوں کا ذمہ دار افغان سرحد پر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر وطن کی ھفاظت کرنے والے سکیورٹی اہلکاروں پر تھوپ دیا۔ وہ ان میں سے کسی کا نام تک نہیں جانتے لیکن انہوں نے بے ہودگی کی انتہا کرتے ہوئے وطن کی سرحدوں کی حفاظت کے لئے جانیں قربان کرنے والوں پر وہ الزام تھوپے جو اب تک دشمن ملکوں کے بدترین پاکستان دشمن عناصر بھی نہیں تھوپ پائے۔