ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

امریکی سپریم کورٹ نے تیسری جینڈر کے وجود کو تسلیم کرنےسےانکارکردیا

Supreme Court of the USA, Gender discrimination, Third Gender, American Passport,
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  سب سے زیادہ لبرل ریاست نے تیسری جینڈر کے شہریوں پر زمین تنگ کر دی۔ مخنث، خواجہ سرا، گے اور لزبین، ٹرنس جینڈر کے کو تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیا۔

امریکہ کی سپریم کورٹ نے قدامت پرست ری پبلکن پارٹی کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی برقرار رکھی ہے، امریکہ کے  پاسپورٹ پر شہری کی جینڈر کی نشاندہی کیلئے  صرف مرد اور عورت  کی دو آپشنز دی جائیں گی جن میں سے ایک کا انتخٓب کرنا ہو گا۔ پاسپورٹ میں صرف مرد اور عورت کا خانہ ہوگا
میڈیا مین شائع ہونے والی رپورٹوں کے مطابق سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس پالیسی کو برقرار رکھا ہے جس کے تحت پاسپورٹ پر صرف دو جینڈر مرد اور عورت، درج ہوں گے۔ تھرڈ جینڈر کا خانہ ختم کر دیا گیا ہے.
امریکہ میں صرف تھرڈ جینڈر کی حیثیت سے خود کو شناخت کروانے والے شہریوں کے لئے ہی نہیں بلکہ تھرڈ جینڈر کے حقوق کو تسلیم کرنے والے کروڑوں "نارمل جینڈر" امریکیوں کے لئے  بھی اپنی سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ تشویش اور صدمے کاسبب ہے۔ 
میڈیا کی رپورٹس مین کہا جا رہا ہے کہ امریکی عدالتِ عظمیٰ کے اس فیصلے سے ملک میں تھرڈ جینڈر (خواجہ سرا، گے، لزبین) کی شناخت پر جاری بحث ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق، پاسپورٹ پر درج جینڈر وہی ہوگی جو کسی  فرد کی پیدائش کے وقت سرکاری طور پر ریکارڈ کی گئی تھی۔

ایک فیصلے نے کیا کچھ ملیا میٹ کر دیا

سپریم کورٹ نے تھرڈ جینڈر کو دنیا بھر میں تیسری جینڈر کی حیثیت سے تسلیم کئے جانے کے دسیوں سال کے عمل کے دوران سامنے آنے والے سائنسی حقائق اور بنیادی ھقوق کی تفہیم کو بیک جنبش قلم نظر انداز کر دیا اور  یہ  پوزیشن اختیار کی کہ تیسری جینڈر کے وجود کو تسلیم نہ کرنا  کسی بھی طرح سے شہریوں کے مساوی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہے، بلکہ یہ محض ایک" تاریخی حقیقت" کے اندراج کے مترادف ہے۔

سپریم کورٹ کے تین ججوں کا اختلاف اور تیسری جینڈر کے حق میں استدلال

امریکہ کی سپریم کورٹ کے جس بنچ نے یہ فیصلہ دیا ہے وہ واضح طور پر قدامت پرست اور لبرل دو متحارب سوچوں کے زیر اثر تقسیم نطر آیا؛ اکثریت کےفیصلے سے سپریم کورٹ کے تین لبرل ججوں نے اختلاف کیا ہے۔ اختلاف کرنے والے ججوں کا مؤقف تھا کہ یہ حکم انسانی شناخت اور ذاتی آزادی کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔ ان ججوں نے واضح کیا کہ، جنس (جینڈر) صرف حیاتیاتی یعنی بائیولاجیکل صورتحال نہیں بلکہ سماجی شناخت کا بھی معاملہ ہے اور حکومت کو اس ضمن میں لچک کو  تسلیم کرنا چاہیے۔

مشہور بلکہ بدنام آڑتھوڈوکس صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دوسرے دورِ صدارت کے آغاز پر جنوری میں وزارتِ خارجہ کو پاسپورٹ کے قواعد میں تبدیلی کرنے کا حکم دیا تھا۔ صدر ٹرمپ کی ان ہدایات کے مطابق، صرف پیدائش کے وقت تسلیم شدہ  جینڈرہی تسلیم کی جائین گی، کسی شہری کو یا مرد تسلیم کیا جائے گا یا عورت مانا جائے گا۔ 

امریکہ کی عدالت نے صدر ٹرمپ کے حکم کو منسوخ کیا تھا

 صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس حکم کے خلاف کسی نے عدالت سے رجوع کر لیا تھا اور  عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کی اس "جبری دو جینڈر"  پالیسی کو منسوخ کر دیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد ٹرمپ کی وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جہاں ٹرمپ انتظامیہ کے آرتھوڈوکس خیالات کے کھلم کھلا حامی ججوں کی اکثریت ہے۔ سپریم کورٹ نے آرتھوڈوکس ججوں نے اپنی اکثریت کے بل پر اس فیصلے کو بلڈوز کر دیا جس سے خود تین معزز ججوں نے شدید نوعیت کا اختلاف کیا۔ ججوں کی اکثریت کے اس فیصلے نے بالآخر آج صدر ٹرمپ کی پالیسی کو آئین کے مطابق قرار دیتے ہوئے اس پر عمل درآمد  کرنے کی اجازت دے دی۔

پاسپورٹ پر جینڈر کا اندراج "ایشو/مسئلہ" کب بنا

 امریکہ میں پاسپورٹ پر جینڈر کا اندراج سب سے پہلے 1970 میں شروع ہوا تھا۔اس دوران امریکہ میں تیسری جینڈر کو ایگ سے تسلیم کئے جانے اور ان کے جینڈر حقوق کی بحث بڑھی اور قومی سطح پر تیسری جینڈر کے وجود کو ان کے حقوق کے ساتھ تسلیم کیا جانے لگا تو وفاقی حکومت نے  1990 میں ایک ترمیم کے ذریعے، میڈیکل سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر جینڈر تبدیلی کی اجازت دی۔

صدر جو بائیڈن نے کیا کِیا تھا

 بعد میں جینڈر کے موضوع پر سائنسی ، ساکالوجیکل ریسرچیں آتی گئیں اور اس موضوع پر تفہیم بڑھتی گئی تو سنہ 2021 میں ڈیموکریٹ پریذیڈنٹ جو بائیڈن کی حکومت نے ایک نیا اصول نافذ کیا، جس کے تحت شہریوں کو بغیر کسی میڈیکل ثبوت کے اپنی جینڈر خود منتخب کرنے کا حق دیا گیا تھا۔ ٹرمپ حکومت نے اقتدار مین آتے ہی جو اولین کام کئے ان مین سے ایک یہ کیا کہ تیسری جینڈر کے قانونی وجود کو فنا کر ڈالا۔ 

اب  خواجہ سرا، گے، لزبین، مخنث امریکہ کی فوج میں خدمت نہیں کر سکیں گے

اسی دوران صدر ٹرمپ کی ہدایت پر  امریکی فوج نے بھی اپنی پالیسی میں تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ فوج کے آفیشل ایکس  ہینڈل پر بتایا گیا کہ اب ٹرانس جینڈر افراد کو فوج میں شمولیت کی اجازت نہیں ہوگی۔ ساتھ ہی، جو فوجی جینڈر تبدیلی کے مراحل میں ہیں، ان کے تمام میڈیکل طریقۂ کار معطل کر دیے گئے ہیں۔

تھرڈ جینڈر فوجیوں کی خدمت کو منافقانہ خراج تحسین

فوج کی جانب سے تیسری جینڈر کے تمام افراد کو بیمار گردانتے ہوئے  کہا گیا کہ ’جینڈر ڈسفوریا‘ کے شکار افراد نے ہمیشہ بہادری سے ملک کی خدمت کی ہے اور ان کے ساتھ احترام اور وقار کے ساتھ برتاؤ کیا جائے گا، مگر مستقبل میں جینڈر تبدیلی یا اس سے متعلق سہولیات فراہم نہیں کی جائیں گی۔

بعض  ماہرین کے مطابق، جینڈر ڈسفوریا ایک نفسیاتی کیفیت ہے، جس میں کسی شخص کو اپنی جسمانی جنس اور اندرونی جینڈر شناخت کے درمیان عدم مطابقت محسوس ہوتی ہے۔ اس کیفیت سے دوچار افراد کے لیے یہ فیصلہ خاصا حساس اور مایوس کن قرار دیا جا رہا ہے۔