سٹی 42 : جمیل اطہر قاضی کی کتاب "اخبار فروش سے اخبار نویس تک" ایک یادداشتوں/شخصیات کے خاکوں پر مشتمل کتاب ہے جو صحافتی، سیاسی اور سماجی تاریخ کا احاطہ کرتی ہے۔
جمیل اطہر قاضی سینئر صحافی، سابق چیف ایڈیٹر روزنامہ جرأت اور کئی اخبارات کے مدیر رہے۔ وہ 1941ء میں سرہند شریف (بھارت) میں پیدا ہوئے، صحافت کا آغاز اخبار فروش (ہاکر) کے طور پر کیا اور پھر نامہ نگار، سب ایڈیٹر، بیورو چیف، کالم نگار اور ایڈیٹر بنے۔ ان کے 70 سال سے زائد کے صحافتی تجربے کا نچوڑ ہے۔
کتاب عنوان مصنف کی اپنی زندگی کی عکاسی کرتا ہے — اخبار فروش سے شروع ہو کر اعلیٰ سطح کے صحافی تک کا سفر۔ یہ کتاب ان کی ذاتی سرگزشت بھی ہے اور پاکستانی صحافت کی ایک عہد کی داستان بھی۔
کتاب میں تقریباً 100-125 شخصیات کے خاکے/مضامین شامل ہیں جن میں مدیرانِ اخبارات، علمائے کرام، سیاستدان، روحانی شخصیات، کارکن صحافی، احباب، بیوروکریٹس اور شعرا شامل ہیں۔ یہ پاکستانی صحافت اور سیاست کی 75 سالہ تاریخ کے مشاہدات پر مبنی ہے۔ طلبہِ صحافت، محققین اور عام قارئین کے لیے حوالہ جاتی کتاب سمجھی جاتی ہے۔
صحافیوں اور ناقدین کے مطابق یہ کتاب صحافت کے طلبہ کے لیے بہترین ریفرنس ہے، جس میں پیشہ ورانہ اقدار، نشیب و فراز اور قومی تاریخ کے ذاتی مشاہدات شامل ہیں۔ مصنف نے بڑی دیانتداری سے خاموش کرداروں کو بھی یاد کیا ہے۔