ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

آئندہ بجٹ میں 3 اور 5 مرلہ گھروں  کیلئےشرح سود کی سبسڈی پر کام جاری

آئندہ بجٹ میں 3 اور 5 مرلہ گھروں  کیلئےشرح سود کی سبسڈی پر کام جاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کم آمدنی والے افراد کیلئے 3 اور 5 مرلہ گھروں پر شرحِ سود میں سبسڈی اور 10 سے 12 سالہ آسان اقساط پر مشتمل رہائشی پیکج کی تیاری میں مصروف ہے۔

ذرائع کے مطابق ملک میں 1 کروڑ 40 لاکھ (14 ملین) رہائشی یونٹس کی قلت کے پیش نظر حکومت اس منصوبے کو بجٹ کا اہم حصہ بنانے پر غور کر رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے کم آمدنی والے خاندانوں کو کم لاگت ہاؤسنگ سہولت دینے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

وزیراعظم آفس بھی اس منصوبے کے دائرہ کار کو وسیع کرنے اور 10 مرلہ گھروں پر بھی سبسڈی دینے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے تاہم ممکنہ طور پر آئی ایم ایف کی جانب سے اس پر اعتراضات سامنے آ سکتے ہیں۔

تخمینوں کے مطابق 3 اور 5 مرلہ گھروں کے لیے سالانہ سبسڈی کا بوجھ 50 سے 70 ارب روپے تک ہو سکتا ہے جبکہ 10 مرلہ پر دی جانے والی سبسڈی کا مالی اثر اس سے کہیں زیادہ ہو گا۔

مارگیج فنانسنگ کے فروغ میں حائل رکاوٹیں بھی زیر بحث ہیں۔ بینکنگ سیکٹر کی جانب سے قرضوں کی بقایا اقساط کی ادائیگی میں عدالتی حکم امتناعی (اسٹے آرڈرز) جیسے مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اگرچہ اس حوالے سے بعض قانونی ترامیم کی گئی ہیں، تاہم مزید اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ مارگیج فنانسنگ کو قابلِ عمل اور محفوظ بنایا جا سکے۔

حال ہی میں وزارت قانون کے ساتھ ہونے والی مشاورت میں بینکنگ اور مالیاتی اداروں نے مؤقف اختیار کیا کہ اقساط کی بازیابی کے لیے قانونی عمل کو سادہ اور موثر بنانا ہوگا تاکہ تعمیراتی و رہائشی شعبے کو بڑے پیمانے پر ترقی دی جا سکے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں حالیہ مردم شماری کے مطابق ملک بھر میں تقریباً 30 ملین (تین کروڑ) رہائشی یونٹس موجود ہیں، جن میں بڑی تعداد کچے یا نیم پکے گھروں پر مشتمل ہے۔