ویب ڈیسک: مصنوعی ذہانت پر مبنی ورچوئل اداکارہ ٹلی نورووڈ جلد اپنی پہلی فیچر فلم میں مرکزی کردار ادا کریں گی۔ فلم "مس الائنڈ" ایک ایسے منفرد تصور پر مبنی ہے جس میں مصنوعی ذہانت کو انسانی اقدار اور مقاصد کے مطابق ڈھالنے کے چیلنج کو کہانی کا محور بنایا گیا ہے۔
ورچوئل اسٹوڈیو پارٹیکل 6 نے اعلان کیا ہے کہ فلم کی تیاری میں مصنوعی ذہانت کا وسیع پیمانے پر استعمال کیا جائے گا، تاہم کہانی نویسی، تکنیکی امور اور اداکاری میں انسانی ماہرین بھی اہم کردار ادا کریں گے۔
اسٹوڈیو کی بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ایلائن وین ڈر ویلڈن کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت معیاری فلم سازی میں معاون ثابت ہو سکتی ہے، لیکن بہترین نتائج کے لیے انسانی تخلیقی صلاحیت، تجربہ، درست فیصلہ سازی اور وقت بدستور ناگزیر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل میں وہی فلم ساز کامیاب ہوں گے جو روایتی کہانی سنانے کے فن کو جدید مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے ساتھ مؤثر انداز میں یکجا کریں گے، جبکہ "مس الائنڈ" اسی سوچ کی عملی مثال ہے۔
اسٹوڈیو کے مطابق ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا گیا کہ فلم سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی جائے گی یا اسے کسی اسٹریمنگ پلیٹ فارم پر ریلیز کیا جائے گا، جبکہ اس کی ریلیز کی تاریخ بھی تاحال جاری نہیں کی گئی۔
دوسری جانب ہالی ووڈ کی مختلف یونینز اور معروف اداکاروں، جن میں اسکارلیٹ جوہانسن اور کیٹ بلانشیٹ شامل ہیں، نے مصنوعی ذہانت کے جنریٹو ٹولز کے ذریعے کاپی رائٹ سے محفوظ تخلیقی مواد کے استعمال کے لیے واضح ضوابط مقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔