ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاکستان سعودی عرب کے ساتھ ای پی آئی ویکسین کی مشترکہ مقامی تیاری پر متفق

پاکستان سعودی عرب کے ساتھ ای پی آئی ویکسین کی مشترکہ مقامی تیاری پر متفق
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:  پاکستان نے حفاظتی ٹیکہ جات کے قومی پروگرام (ای پی آئی) میں شامل ویکسینز کی مشترکہ مقامی تیاری کے لیے سعودی عرب کے ساتھ تعاون کا فیصلہ کر لیا ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت خدمات، ریگولیشنز اور کوآرڈینیشن کے اجلاس کے دوران وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ سعودی وفد 28 جنوری کو پاکستان کا دورہ کرے گا تاکہ ویکسین کی مشترکہ تیاری سے متعلق تعاون کو حتمی شکل دی جا سکے۔

وفاقی وزیر صحت نے بتایا کہ ماضی میں پاکستان زیادہ تر ویکسینز بھارتی کمپنیوں سے بین الاقوامی اداروں کے ذریعے حاصل کرتا رہا ہے لیکن موجودہ سیاسی کشیدگی کے باعث بھارت کی طرف سے ویکسین کی فراہمی بند ہو گئی، حتیٰ کہ تیسرے فریق کے ذریعے بھی سپلائی ممکن نہ رہی۔

پاکستان ہر سال تقریباً 350 سے 400 ملین ڈالر مالیت کی ویکسین خریدتا ہے، جس میں 51 فیصد اخراجات ملکی وسائل سے اور باقی عالمی شراکت دار ادارے جیسے گیوی، یونیسیف، عالمی ادارہ صحت، گیٹس فاؤنڈیشن اور روٹری انٹرنیشنل فراہم کرتے ہیں۔ عالمی معاونت 2030 تک جاری رہنے کی توقع ہے، جس کے بعد پاکستان کو اپنا پروگرام مکمل طور پر خود فنڈ کرنا ہوگا۔

نیشنل ویکسین پالیسی کے تحت نیشنل ویکسین الائنس قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس میں مقامی فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت شامل کیا جائے گا۔ ابتدائی مرحلے میں ویکسین کی پیکجنگ اور فِنشنگ پاکستان میں ہوگی، جبکہ مرحلہ وار مکمل مقامی تیاری کی جانب پیش رفت کی جائے گی۔ پاکستان کو سالانہ تقریباً 140 ملین ای پی آئی ویکسین ڈوزز کی ضرورت ہے۔