احمد منصور : خیبر پختونخواہ میں تین مختلف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 19خوارج ہلاک کر دیئے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پشاور میں خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر سکیورٹی فورسز نے کارروائی کرکے آٹھ خوارج ہلاک کیے ۔ ایک اور آپریشن ضلع مہمند کے علاقے بازئی میں کیا گیا، فائرنگ کے تبادلے میں آٹھ خوارج ہلاک ہوئے ۔ کرک میں دہشت گردوں کے ساتھ سیکیورٹی فورسز کا فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ جس میں تین خوارج ہلاک ہوئے جبکہ فائرنگ کے شدید تبادلے میں مادر وطن کے تین سپوت بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے ۔
شہداء میں لانس حوالدار عباس علی، نائیک محمد نذیر، نائیک محمد عثمان شامل ہیں،لانس حوالدار عباس علی کی عمر 38 برس تعلق ضلع غذر سے تھا، نائیک محمد نذیر کی عمر 37 برس تعلق سکردو سے تھا
نائیک محمد عثمان کی عمر 37 برس تعلق ضلع اٹک سے تھا، تینوں شہدا نے دہشت گردوں کے خلاف بہادری سے لڑتے ہوئے جان کا عظیم نظرانہ پیش کر کے جام شہادت نوش کیا

علاقے میں ممکنہ خوارج کےخاتمےکےلیے کلیئرنس آپریشن کیا گیا ، آئی ایس پی آر نے کہا سیکیورٹی فورسزدہشتگردی کےخاتمےکے لیے پرعزم ہیں ،جوانوں کی یہ قربانیاں ہمارے عزم کومزیدتقویت دیتی ہیں،
پنجاب پولیس کے مطابق پنجاب پولیس نے آپریشن میں حصہ لے کر خیبرپختونخوا بارڈر کے قریب خوارجی دہشتگردوں کے ٹھکانے مسمار کیے ، پنجاب پولیس اور سی ٹی ڈی نے ڈیرہ غازی خان میں پنجاب خیبرپختونخوا بارڈر ایریا میں آپریشن کیا۔،خفیہ اطلاع پر بستی جادے والی میں دہشتگردوں کے خلاف کومبنگ آپریشن کیا گیا۔،آپریشن کے دوران خوارجی دہشتگرد بھاری اسلحہ سے پولیس پر حملہ آور ہوئے۔،ڈی پی او ڈیرہ غازی خان سید علی کی قیادت میں پولیس ٹیموں نے بھرپور جوابی کاروائی کی۔،خوارجی دہشتگرد پسپا ہو کر جھاڑیوں کی اوٹ لیتے ہوئے پہاڑوں میں بھاگ کھڑے ہوئے۔پولیس نے پنجاب خیبرپختونخوا بارڈر پر خوارجی دہشتگردوں کے دو ٹھکانے مسمار کرکے جلا دیے۔ دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کے دوران تمام پولیس اہلکار الحمدللہ محفوظ رہے۔پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا سرحدی علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔