ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بالی ووڈ کے اداکار منوج باجپائی کی فلم ریلیز سے قبل تنازع کا شکار  

بالی ووڈ کے اداکار منوج باجپائی کی فلم ریلیز سے قبل تنازع کا شکار  
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)فلمیں اور شوز پیش کرنیوالی سٹریمنگ سروس نیٹ فلکس  پر بالی ووڈ کے اداکار منوج باجپائی کی آنے والی بھارتی فلم ’گھوس خور پنڈت‘ ریلیز سے پہلے ہی تنازع کی شکار  ہوگئی ۔ اس دوران فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سائن ایمپلائز (ایف ڈبلیو آئی سی ای ) نے فلم کے ٹائٹل کو توہین آمیز قرار دے کرفوری طور پر اسے واپس لینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
بھارت کے ایک بڑے اردو اخبار کی رپورٹ کے مطابق فلم اور ویب مواد کے ٹائٹل کے حوالے سے اٹھنے والے تنازعات کی کڑی میں اب نیٹ فلکس کی آنے والی فلم ’گھوس خور پنڈت‘ بھی شامل ہوگئی ہے۔ نیرج پانڈے کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم کا حال ہی میں اعلان کیا گیا تھا۔ منوج باجپائی کے مرکزی کردار والی فلم کا پرومو نیٹ فلکس کے 2026 کے سلیٹ کے اعلان کے دوران جاری کیا گیا تھا، جس کے بعد فلم کے ٹائٹل سے متعلق تنازعہ اس حد تک بڑھ گیا کہ میکرز کو او ٹی ٹی پلیٹ فارمز سے پروموشنل مواد کو ہٹانا پڑا۔ دریں اثنا اب فلم کی مشکلات بڑھتی ہوئی نظرآرہی ہیں.
فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سنے ایمپلائیز (ایف ڈبلیوآئی سی ای) نے فلم کے ٹائٹل پر سخت اعتراض کرتے ہوئے اسے ’تضحیک آمیز اور اشتعال انگیز‘ قرار دیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس نام سے نہ صرف ایک مخصوص کمیونٹی کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچنے کا بھی اندیشہ ہے۔ایف ڈبلیوآئی سی ای نے اس معاملے سے متعلق ایک سرکاری خط جاری کرکے انڈین موشن پکچر پروڈیوسرز ایسوسی ایشن (آئی ایم پی پی اے)، پروڈیوسرس گلڈ آف انڈیا، آئی ایف ٹی پی سی اور ڈبلیو آئی ایف پی اے جیسی بڑی پروڈیوسر تنظیموں کے ساتھ ساتھ نیٹ فلکس،امیزن پرائم ویڈیو، جی5 اور سونی لائیو جیسے اوٹی ٹی پلیٹ فارمز کو بھی آگاہ کیا ہے۔ خط میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ کسی کمیونٹی کو منفی طورسے پیش کرنے والے ٹائٹل کے رجسٹریشن اور استعمال سے گریز کیا جانا چاہیے۔
ایف ڈبلیو آئی سی ای کا استدلال ہے کہ ’گھوس خور‘ جیسے لفظ کو ’پنڈت‘ جیسے روایتی کنیت کے ساتھ جوڑنے سے ایک خاص کمیونٹی کی شبیہ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ تنظیم نے فلم کے پروڈیوسر نیرج پانڈے سے اپیل کی ہے کہ وہ سماجی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری طور پر ٹائٹل واپس لیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے انتباہ بھی دیا کہ اگر کوئی اصلاحی اقدام نہیں کیا گیا تو ایف ڈبلیو آئی سی ای اپنے ممبروں کو فلمساز کے آنے والے پروجیکٹس کا بائیکاٹ کرنے کا مشورہ دے سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق فلم کے مرکزی اداکار منوج باجپائی نے بھی ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’’اگر کوئی کام لوگوں کو تکلیف دے رہا ہے تو اسے سنجیدگی سے سننا اور سمجھنا ضروری ہے‘‘۔ منوج نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کا کردار ایک افسانوی کردار کا ہے جو اپنی خامیوں کا سامنا کرتا ہے اور خود شناسی کے سفر سے گزرتا ہے۔ ان کے مطابق یہ صرف ایک کردار پر مبنی پولیس ڈرامہ ہے ، کہ کسی کمیونٹی پر تبصرہ بلکل نہیں ہے۔