ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

جسٹس منصور کا ایک اور مبینہ خط، الزامات، شکایات اور فرمائشوں کی بھرمار

Justice Mansoor Ali Shah, Cheif Justice of Pakistan, City42, Judicial Conference
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  جسٹس منصور نے چیف جسٹس آف پاکستان کو ایک اور خط لکھ دیا اور جسٹس منصور کے گزشتہ خطوط کی طرح اس مبینہ خط کے مندرجات بھی میڈیا میں آ گئے۔ 

جسٹس منصور نے  چیف جسٹس آف پاکستان کو اس مرتبہ جو مبینہ خط لکھا ہے اس میں میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے 6 سوالات کئے ہیں۔
 جسٹس منصور علی شاہ نےاس خط میں سوال کیا ہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کا اجلاس کیوں نہیں بلایا گیا۔

سات صفحات پر مشتمل اس مبینہ خط  میں جسٹس منصور نے اس بات پر بھی اعتراض کیا کہ سپریم کورٹ رولز کی منظوری ان رولز  کی دستاویز ججوں کو بھیج کر سرکولیشن کے ذریعے کیوں لی گئی۔ جسٹس منصور کو یہ بھی اعتراض ہے کہ مقدمات کے فیصلوں میں"اختلافی نوٹ" سے متعلق نئی پالیسی" فل کورٹ میں بحث" کے بغیر بنائی گئی۔

جسٹس منسور نے اپنے 7 صفھوں کے خط میں یہ بھی اعتراض کیا کہ ججوں کی چھٹیوں کے متعلق نیا آرڈر کیوں جاری ہوا۔  اور 26ویں ترمیم کیخلاف درخواستیں فل کورٹ میں کیوں نہیں مقرر کی گئیں۔

عدلیہ کی عمومی روایت کو نظر انداز کر کے چیف جسٹس کو خط لکھ کر  شکایات کرنے کے لئے مشہور جسٹس منصور نے اپنے نیا خط لکھنے کا جواز یہ پیش کیا کہ وہ چیف جسٹس کے بعد سب سے سینئیر جج ہیں۔ چیف جسٹس نے اب تک جسٹس منصور کے کسی بھی خط کا جواب نہیں دیا۔  اپنے نئے مبینہ خط میں جسٹس منصور نے یہ بھی لکھا ہے کہ چیف جسٹس صاحب آپ کو کئی خطوط لکھے لیکن آپ کی طرف سے تحریری نہ زبانی جواب ملا۔ جسٹس منصور نے چیف جسٹس سے فرمائش کی کہ وہ ان کے اس خط کا  8ستمبر کو  "جوڈیشل کانفرنس" میں "عوامی سطح پر جواب" دیں۔

اعلیٰ عدلیہ کی طویل روایات کو نطر انداز کرنے اور اپنے چیف جسٹس سے عوام کے روبرو جواب طلب کرنے کا جواز جسٹس منصور نے یہ پیش کیا، "عوامی سطح پر چیف جسٹس پاکستان کا جواب ججز اور عوام کو اعتماد دے گا"."آپ کا جواب یقین دلائے گا آپ کی ریفارمز شفاف اور آئین کے مطابق ہیں۔"

جسٹس منصورنے جو مبینہ خط  لکھا اس کے متعلق کسی مؤثق ذریعہ سے یہ تصدیق نہیں ہوئی کہ یہ چیف جسٹس آف پاکستان کو مل گیا ہے یا نہیں لیکن اس خط کے مندرجات بہت تفصیل کے ساتھ کچھ میڈیا آؤٹ لیٹس کی اشاعت میں آ گئے ہیں۔ 

شکایتیں اور الزامات

خط میں جسٹس منسور نے شکایت کی، اکتوبر2024سے پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کی ایک بھی باضابطہ میٹنگ نہیں ہوئی، بینچز بغیرمشاورت کے تشکیل دیئے جارہے ہیں۔یکطرفہ طور پر بینچز کی تشکیل اور کاز لسٹ جاری ہورہی ہے۔ ججز روسٹر بغیر مشاورت کے دستخط کیلئے بھیجے جاتے ہیں۔

سینئر ججزکو 2 رکنی جبکہ جونیئر ججز کو 3 رکنی بینچ دیئے جارہے ہیں۔  "قومی اہمیت کے مقدمات" سینئر ججز کے سامنے مقرر نہیں کیے جارہے۔

جسٹس منصور نے یہ الزام بھی لگایا کہ سینئر ججز کو کنٹرول کرنے کیلئے سائیڈ لائن کیا جارہا ہے۔

انہوں نے مزید یہ بھی الزام لگایا کہ ججوں کی تعداد میں اضافہ مقدمات کی تعداد کےبجائے "اندرونی توازن" کیلئے کیا گیا۔

 کو یہ بھی شکایت ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم پر دائر درخواست ایک سال سے زیرالتوا ہے۔ انہوں نے فرمائش کی کہ 26ویں ترمیم کے متعلق مقدمات کو نئے آنے والےججز کے علاوہ فل کورٹ کو سننا چاہیے۔

جسٹس منسور نے اپنے اس خط میں دعویٰ کیا کہ26ویں ترمیم کے فیصلے تک "چیف جسٹس آفس کی قانونی حیثیت"  پر سوال ہے۔ جسٹس منصور نے اپنے میڈیا آؤٹ لیٹس کے ذریعہ سامنے آنے والے مبینہ خط میں یہ بھی لکھا کہ  26ویں ترمیم کے بعد  "چیف جسٹس آفس کی آئینی حیثیت" بھی مشکوک ہے۔

اپنے مبینہ خط میں جسٹس منسور نے چیف جسٹس آف پاکستان کو ایک سے زیادہ بار اکسایا کہ وہ جوڈیشل کانفرنس کے موقع پر ان کے خط کا جواب دیں۔ جسٹس منصور نے  سیاستدان جیسا  طرز کلام اپناتے ہوئے یہ بھی لکھا کہ یہ  قوم کی خواہش ہے کہ چیف جسٹس جواب دیں۔  جسٹس منصور کا میڈیا میں کوٹ ہونے والا جملہ یہ ہے:  "قوم اور ججز چیف جسٹس کی جانب دیکھ رہے ہیں کہ واضح جواب ملے۔ قوم اور ججز ان سوالات پر چیف جسٹس کی خاموشی نہیں چاہتے۔"