ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کوئٹہ میں خاتون ڈاکٹر پر تیزاب حملہ، وائی ڈی اے کا احتجاج، مبینہ ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک

کوئٹہ میں خاتون ڈاکٹر پر تیزاب حملہ، وائی ڈی اے کا احتجاج، مبینہ ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

عیسیٰ ترین: کوئٹہ میں خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے کے افسوسناک واقعے کے بعد ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن ( وائی ڈی اے) نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اسپتالوں میں سیکیورٹی کی صورتحال پر سنگین تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

صدر وائی ڈی اے ڈاکٹر حئی بلوچ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ خاتون ڈاکٹر کے چہرے اور جسم پر تیزاب پھینکا گیا جس کے نتیجے میں وہ تقریباً 35 فیصد جھلس گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق حملے میں ملوث شخص اسپتال کا لفٹ آپریٹر اور نجی ملازم ہے۔

ڈاکٹر حئی بلوچ نے دعویٰ کیا کہ خاتون ڈاکٹر کو قتل کرنے کی سازش کی گئی اور اسپتال کی چاردیواری کے اندر ڈاکٹرز خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسپتال میں سیکیورٹی کے مؤثر انتظامات موجود نہیں جبکہ محکمہ صحت کی کارکردگی بھی سوالیہ نشان بن چکی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ واقعے کے بعد زخمی ڈاکٹر کو سول اسپتال میں مناسب طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا سکیں، جس کے باعث انہیں نجی اسپتال منتقل کرنا پڑا۔ وائی ڈی اے نے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث ملزم کو فوری گرفتار کر کے قانون کے مطابق سزا دی جائے جبکہ سیکرٹری صحت، ایم ایس اور اسپتال سیکیورٹی انچارج کو بھی فوری طور پر عہدوں سے ہٹایا جائے۔

وائی ڈی اے نے اعلان کیا کہ ایمرجنسی سروسز کے علاوہ تمام طبی خدمات کا بائیکاٹ کیا جا رہا ہے، جبکہ 12 گھنٹوں کے اندر ملزم کی گرفتاری نہ ہونے کی صورت میں مکمل ہڑتال کی جائے گی۔

دوسری جانب پولیس کے مطابق خاتون ڈاکٹر پر تیزاب حملے کے مقدمے میں مطلوب مبینہ ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گیا ہے۔ ایس ایچ او سول لائنز جواد حیدر نے بتایا کہ مطلوب ملزم فائرنگ کے تبادلے کے دوران مارا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں جبکہ تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔