طاہر جمیل:لاہور میں مون سون سیزن اور ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضلعی انتظامیہ نے جامع پیشگی انتظامات مکمل کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر لاہور کیپٹن (ر) محمد علی اعجاز کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں تمام متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فنانس، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہیڈکوارٹر سمیت واسا، ایم سی ایل، روڈا، ریسکیو 1122، محکمہ انہار اور دیگر اداروں کے نمائندگان شریک ہوئے۔
اجلاس میں دریائی اور شہری سیلاب کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے تفصیلی حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا۔ محکمہ انہار اور روڈا کی جانب سے حفاظتی بندوں کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی جبکہ واسا اور میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور (ایم سی ایل) نے نالوں کی صفائی اور نکاسی آب کے اقدامات سے آگاہ کیا۔
واسا حکام نے بتایا کہ ادارے کے پاس 617 ڈی واٹرنگ سیٹس اور 134 ڈسپوزل اسٹیشنز مکمل طور پر فعال ہیں۔ دوسری جانب ایم سی ایل نے شہر کے 9 زونز میں 70 ڈی واٹرنگ سیٹس کو ہائی الرٹ رکھنے کا پلان پیش کیا۔
ریسکیو 1122 کی جانب سے واٹر ریسکیو اور ہنگامی امدادی کارروائیوں کا جامع پلان اجلاس میں پیش کیا گیا جبکہ سول ڈیفنس کے 139 تربیت یافتہ رضاکار کسی بھی ممکنہ ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق دریائی پٹی پر 38.95 میل طویل حفاظتی بندوں کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ دریائے راوی کے اطراف واقع 35 موضع جات کے لیے حفاظتی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
ممکنہ متاثرہ علاقوں کے مکینوں کی فوری امداد کے لیے 65 ریلیف کیمپس بھی پہلے سے مختص کر دیے گئے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر لاہور کیپٹن (ر) محمد علی اعجاز نے ہدایت کی کہ مون سون کے آغاز سے قبل تمام حفاظتی اور انتظامی اقدامات ہر صورت مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی کنٹرول روم کو 24 گھنٹے فعال رکھنے اور تمام اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ برقرار رکھنے کی بھی ہدایت کی۔
انہوں نے واضح کیا کہ مون سون کی تیاریوں میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔