سٹی42: ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل کے فوراً بعد ہی سوشل میڈیا پر یہ یقین کر لیا گیا کہ قاتل نے اسے "انکار" کی سزا دینے کے لئے قتل کیا۔ ثنا یوسف کے قتل کے بعد تفتیش سے قطع نظر بہت سے لوگ اب بھی بضد ہیں کہ اس کا قتل قبضہ کی سوچ کے زیر اثر ہوا۔ کیا قاتل عمر حیات واقعی نفسیاتی مریض ہے؟
ثنا یوسف چترال سے تعلق رکھنے والی ایک باہمت، تخلیقی اور خودمختار نوجوان لڑکی تھی جو سوشل میڈیا پر بااثر ڈیجیٹل کریئیٹر کے طور پر ابھر رہی تھی۔ مگر بدقسمتی سے اس کی زندگی کا اختتام ایک ایسے المیے پر ہوا جو معاشرہ میں منفی رجحانات کے متعلق نئی بحث ہو جنم دے گیا۔
ثنا کو ایک 22 سالہ نوجوان عمر حیات نے بظاہر اس لیے قتل کیا کہ اس نے اس کی دوستی کی پیشکش قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس نوجوان قاتل کے رویہ کے متعل سوشل میڈیا پر بہت زیادہ تبصروں کے باوجود تفتیش کرنے والوں کی طرف سے اب تک کوئی ایسی بات سامنے نہیں آئی جس سے شبہ ہو کہ قاتل کوئی نفسیاتی مریض تھا۔
اس کے باوجود بہت سے لوگ بضد ہیں کہ یہ معاملہ غصے کا نہیں بلکہ ایک پیچیدہ سوچ کا نتیجہ ہے۔ وہ سوچ جو انکار کو جرم اور اپنی انا کو انصاف کا پیمانہ سمجھتی ہے۔ ماہرین اس سوچ کو ان سیل (In Cel) کے نام سے جانتے ہیں۔
اِن والنٹری سیلیبیٹ: خطرناک نفسیاتی الجھن
‘ان سیل’ (Involuntary Celibate) یعنی ‘بغیر اپنی مرضی کے غیررومانوی زندگی گزارنے والے افراد’ کی اصطلاح مغرب میں ایک آن لائن کمیونٹی سے وابستہ رہی ہے، جو جنسی یا رومانوی تعلق سے محرومی کے باعث مخالف جینڈر کے خلاف شدید نفرت اور غصے میں مبتلا ہوتے ہیں۔
یہ لوگ مخالف جینڈر کے ‘نہ’ کہنے کو اپنی تذلیل سمجھتے ہیں۔ان کی گفتگو، آن لائن فورمز، یوٹیوب چینلز اور سوشل میڈیا گروپس میں عورت دشمنی کا اظہار عام سی بات ہے۔
اس طرح کی ذہنیت ہمارے معاشرے میں کئی انداز سے موجود ہے۔ ؒخود کو تسلیم کروانے کے لیے تعلق کا ‘حاصل ہونا’ ضروری سمجھا جاتا ہے۔ انکار کو تذلیل کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔خودمختار رویہ کو ‘غرور’ اور ‘قابلِ سزا’ رویہ سمجھا جاتا ہے۔
یہ وہ معاشرتی تصورات ہیں جو جینڈر کے متعلق بہتر اور مثبت تصورات تک رسائی سے محروم بہت سے نوجوانوں کی سوچ کی تشکیل کرتے ہیں۔ وہ شعوری طور پر خود کو ‘ان سیل’ نہ بھی سمجھتے ہوں، تب بھی ان کی سوچ اسی زہریلے سانچے سے جنم لیتی ہے۔ ان منفی رجحانات کا شکار ہونے والوں مین مرد اور عورتین دونوں شامل ہیں۔
‘نہ’ اور معاشرتی انا کا زخم
ثنا یوسف کی کہانی میں یہ تصور کیا جا رہا ہے کہ اس کا جرم صرف یہ تھا کہ اس نے "تعلق" سے انکار کیا، اپنی پسند اور اپنی آزادی کا استعمال کیا۔ قاتل عمر حیات عرف کاکا نے اس انکار کو انا کا مسئلہ بنایا، اور اسے ‘سزا دینے’ کی حد تک چلا گیا۔
یہ جرم مرد یا عورت کوئی بھی کر سکتا ہے لیکن ثنا کے معاملہ میں مردوں سے نفرت میں مبتلا نام نہاد فیمینسٹ ایک خاص رنگ دینے کے درپے ہیں۔ وہ لوگ پاکستان کے تمام مردوں کو مجرم اور ذہنی مریض قرار دینے کے لئے اس کیس کو استعمال کر رہے ہیں۔
عمر حیات، ان سیل تھا؟
قاتل عمر حیات سے کوئی براہ راست واقفیت نہ رکھنے والے، اس کے متعلق سامنے آنے والی معلومات انتہائی قلیل ہونے کے باوجود بڑے اعتماد سے اپنی تخیلاتی تحقیقات کا یہ نتیجہ پیش کرتے ہیں کہ عمر حیات اِن سیل ہے۔ اس کے لئے "عورت کا انکار ناقابلِ برداشت" تھا اس لئے ہی اس نے قتل کر دیا۔
قاتل کے متعلق معلومات نہ ہونے کے باوجود اپنے پہلے سے فِکس مائینڈ سیٹ کے قیدی بہت سے لوگ دیدہ دلیری کے ساتھ قاتل کو ذہنی مریض قرار دے رہے ہیں اور اس "ذہنی مرض" کو معاشرہ میں پہلے سے جاری بحث کے تناظر میں ڈسکس کرتے ہوئے ہر مرتبہ کی طرح اس واقعہ سے بھی صرف یہ نتیجہ نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مردانہ غلبہ کی سوچ کو توڑا جائے اور عورت کی آزادی کو تسلیم کیا جائے۔ اس بحث نے ٹک ٹاکر ثنا کے قتل کی تفتیش پر کچھ اثر اس لئے نہیں ڈالا کہ پولیس نے بہت غیر معمولی تیز رفتار کے ساتھ تحقیقات کر کے قاتل کر گرفتار کر لیا اور اس نے اپنے جرم کا اعتراف بھی کر لیا اور آلہ قتل بھی برآمد ہو گیا۔
ملزم کا ابتدائی بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں اس نے کہا، ’مجھے اس بات کا رنج تھا کہ وہ مجھ سے نہیں ملی، اسی دکھ میں میں نے اسے مار دیا۔‘