سٹی42: مسیحا کی یونیفارم پہننے والا ایک اور جنسی درندہ انجام سے دوچار ہو گیا۔
38 سالہ ڈاکٹر پر بالغ اور بچوں کے مریضوں کے خلاف متعدد جنسی حملوں کا الزام ہے۔
انگلینڈ کے اخبار ڈیلی میل نے رپورٹ کیا ہے کہ انگلینڈ کی کراؤن پراسیکیوشن سروس نے آج ایک سابق ڈاکٹر کے خلاف 38 متاثرین کے خلاف کیے گئے مبینہ جنسی حملوں کے الزامات کا اعلان کیا ہے ۔ یہ سب مریض مختلف وقتوں میں اس ڈاکٹر کی دیکھ بھال میں رہےتھے۔
برمنگھم کے رہائشی علاقہ کوئنٹن سے تعلق رکھنے والے نیتھنیل سپینسر پر 2017 اور 2021 کے درمیان درجنوں مریضوں پر جنسی حملوں کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس کا نشانہ بننے والوں میں تیرہ سال سے کم عمر بچے بھی شامل ہیں۔
38 سالہ ملزم پر سٹافورڈ شائر پولیس کی مفصل تحقیقات کے بعد بالغ اور بچوں کے مریضوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس الزام عائد کئے جانے کا مطلب مقدمہ کی کارروائی کا آغاز ہونا ہے۔
تحقیقات کرنے والے آفیسرز نے اس ڈاکٹر کے خلاف سٹوک آن ٹرینٹ کے رائل اسٹوک یونیورسٹی اسپتال اور ڈڈلی کے رسلز ہال ہسپتال میں کیے گئے دعوؤں کی چھان بین کی۔
اس پر 13 سال سے کم عمر کے بچے پر جنسی حملے کی نو حرکتیں کرنے۔ 13 سال سے کم عمر کے بچوں کے ساتھ جنسی فعل کرنے کے کئی الزامات ہیں۔
ڈاکٹر سپنسر پر آج الزام عائد کیا گیا اور وہ 20 جنوری 2026 کو نارتھ سٹافورڈ شائر جسٹس سینٹر میں پیش ہوں گے۔
برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق
کراؤن پراسیکیوشن سروس کے ڈپٹی چیف پراسیکیوٹر بین سیمپلز نے کہا کہ ’ہمارے پراسیکیوٹرز نے سٹافورڈ شائر پولیس کی جانب سے کی جانے والی تفصیلی اور پیچیدہ تحقیقات میں بھرپور تعاون کیا، دستیاب شواہد کا بغور جائزہ لیا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مقدمہ چلانے کے لیے کافی ثبوت موجود ہیں اور عوامی مفاد میں فوجداری کارروائی کو آگے بڑھانا ضروری ہے۔‘
یہ الزامات رائل سٹوک یونیورسٹی ہسپتال اور رسلز ہال ہسپتال میں مبینہ جنسی جرائم کی تحقیقات کے بعد سامنے آئے ہیں۔
سپینسر 20 جنوری کو نارتھ سٹافورڈ شائر جسٹس سینٹر میں پیش ہوں گے۔ ان پر 45 الزامات عائد کیے جائیں گے جن میں 15 بار جنسی زیادتی، 17 بار جنسی حملہ، نو بار 13 سال سے کم عمر بچے کے ساتھ جنسی زیادتی، تین بار 13 سال سے کم عمر بچے پر جنسی حملہ اور دیگر الزامات شامل ہیں۔
آپریشن انزو (جاری تحقیقات)
سٹافورڈ شائر پولیس سنگین جنسی جرائم میں ملوث 38 سالہ ڈاکٹر کے جرائم کی طویل عرصہ تک تحقیقات کرتی رہی ہے۔ اس ڈاکٹر (عمر 38 سال) کی طرف سے بالغوں اور بچوں کے مریضوں کے خلاف جنسی حملوں کے الزامات کی ایک الگ، طویل عرصے سے جاری تحقیقات کا نام "آپریشن انزو" ہے۔ یہ ڈاکتر ڈڈلی کے رائل سٹوک یونیورسٹی ہسپتال اور رسلز ہال ہسپتال میں کام کرتا تھا۔
اس ڈاکٹر کو دسمبر 2021 میں گرفتار کیا گیا تھا اور تفتیش کے بعد رہا کیا گیا تھا۔ اس کو رہا کرنے کے بعد پیچیدہ تحقیقات جاری رکھی گئیں۔
مریضوں کے ریکارڈ کا جائزہ
ستمبر 2025 میں سینکڑوں مریضوں کے ریکارڈ کا پولیس کا جائزہ لیا گیا، اور کراؤن پراسیکیوشن سروس (CPS) کے ذریعے چارجنگ کے فیصلے کے لیے ایک کیس فائل تیار کی جاتی رہی۔ آج پراسیکیوشن نے بالآخر ملزم کو چارج کر دیا۔
انگلینڈ میں میڈیکل پروفیشن سے وابستہ افراد کے متعدد جنسی جرائم ک حالیہ دنوں میں سامنے آئے جن میں رائل سٹوک یونیورسٹی ہسپتال اور متعلقہ NHS ٹرسٹ کے دو سابق ڈاکٹر شامل ہیں۔ ان معاملات میں سے ایک میں پولیس کی تحقیقات، متاثرہ مریضوں کے لیے ہسپتال کی ہیلپ لائن کی مدد سے کیس بنا اور سزا سنائی گئی۔ دوسرا کیس ایب چارج شیٹ کے مرحلہ میں آ گیا ہے۔
ڈاکٹر میتھیو آئلز (مجرم)
کان، ناک اور گلے کے سابق مشیر ڈاکٹر میتھیو آئلز، 53، کو متعدد بچوں کے جنسی جرائم کا اعتراف کرنے کے بعد جیل بھیج دیا گیا ہے۔
الزامات: اس مجرم نے 12 جرائم کے لیے جرم قبول کیا، جس میں بچوں کے ساتھ جنسی رابطے میں مشغول ہونے کی کوشش، بچوں کی ناشائستہ تصاویر رکھنا اور تقسیم کرنا، voyeuurism (رضامندی کے بغیر عورتوں کی ویڈیو بنانا اور "پیڈو فائل مینوئل" رکھنا شامل ہیں۔
تفتیش: یہ جرائم اس وقت سامنے آئے جب اس ڈاکٹر نے ڈیٹنگ ویب سائٹ پر نابالغ کے روپ میں رابطہ کرنے والے ایک خفیہ پولیس افسر کے ساتھ جنسی جرم میں ملوث ہونے والی واضح گفتگو کی۔
سزا: اگست 2025 میں، اس ڈاکٹر میتھیو آئلز کو حراستی مدت کی سزا سنائی گئی اور وقت کی حد کے بغیر دوسروں کو جنسی نقصان سے بچاؤ کا حکم دیا گیا۔
ٹرسٹ کا رسپانس: یونیورسٹی ہاسپٹل آف نارتھ مڈلینڈز NHS ٹرسٹ (UHNM) نے تصدیق کی کہ یتھیوز اب ان کا ملازم نہیں رہا۔ ٹرسٹ نے پولیس کی تفتیش میں مکمل تعاون کیا۔
ڈاکٹر جواد احمد (پولیس کو مطلوب)
پولیس ایک اور ڈاکٹر ڈاکٹر جواد احمد کی تلاش کر رہی ہے، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ 2020 میں دو مبینہ جنسی حملوں کے بعد ملک چھوڑ چکے ہیں۔
الزامات: جواد احمد کی طرف سے ایک جونیئر ڈاکٹر اور ایک نوعمر لڑکی نے الگ الگ جنسی زیادتی کی اطلاع دی۔
ایمپلائمنٹ ٹربیونل: ایک ایمپلائمنٹ ٹربیونل نے ہسپتال کے ٹرسٹ کو جونیئر ڈاکٹر کے خلاف مناسب طریقہ کار پر عمل کرنے میں ناکامی، اس کے رازدارانہ بیان کو غلط انداز میں استعمال کرنے، اور اس کے خدشات کو نظر انداز" کرنے کی وجہ سے غیر قانونی طور پر امتیازی سلوک کا مرتکب پایا۔
ٹرسٹ کا جواب: ٹرسٹ نے ڈاکتر جواد احمد کے معاملہ میں اپنے تفتیشی عمل میں ناکامیوں پر معذرت کی اور کہا کہ جنسی تشدد اور بدسلوکی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ہیلپ لائن: دونوں ہسپتال کے ٹرسٹوں نے ان مریضوں اور والدین کے لیے ہیلپ لائنیں کھولی ہیں جو شاید متاثر ہوئے ہوں۔
انگلینڈ میں کوئی بھی شخص جو اسے یا خاندان کے کسی رکن کو ملنے والی دیکھ بھال کے بارے میں فکر مند ہو اسے متعلقہ ہسپتال کی پیشنٹ ایڈوائس اینڈ لیزن سروس (PALS) یا اسٹافورڈ شائر پولیس سے براہ راست رابطہ کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔