ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

طالبان حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا وہ پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں یا ٹی ٹی پی کے ساتھ : ترجمان دفتر خارجہ

طالبان حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا وہ پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں یا ٹی ٹی پی کے ساتھ : ترجمان دفتر خارجہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: طالبان حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا وہ پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں یا ٹی ٹی پی کے ساتھ : ترجمان دفتر خارجہ  نے موقف اپناتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغانستا ن کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا ۔ 

ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہمیں بین الاقوامی حمایت، بالخصوص کابل کو فراہم کی جانے والی بین الاقوامی انسانی امداد پر کوئی اعتراض نہیں رکھتے.ہم امید کرتے ہیں کہ ڈونرز/عطیہ دہندگان احتیاط برتیں گے کہ انسانی امداد، مختص فنڈز یا افغانستان کی اقتصادی معیشت کے لئے فنڈز ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہوں.ہم ڈونرز پر زور دیتے ہیں کہ وہ احتیاط برتیں کہ ان کے پیسے کہیں غلط استعمال نہ ہوں زور دیتے ہیں کہ ڈونرز کے پیسے دہشت گردی کے انفراسٹرکچر کی حمایت کے لیے استعمال نہ ہوں، چاہے وہ ٹی ٹی پی ہو یا کوئی اور تنظیم.افغان فریق ٹی ٹی پی اور ان کے اتحادیوں کی حمایت کرتا ہے.

 ان کا کہنا تھا کہ یہ حمایت، چاہے وہ اپنے وسائل استعمال کر کے کریں یا کسی بھی بین الاقوامی عطیات کو استعمال کر کے، یہ حمایت ختم ہونی چاہیے.ہم افغانستان کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے ہیں.

 افغان ہمارے بھائی، بہنیں ہیں.ان کے خلاف جنگ کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا.جہاں تک طالبان حکومت کی ٹی ٹی پی کی حمایت کا تعلق ہے، یہ ہمارے تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے. اس حمایت کو ختم ہونا چاہیے.طالبان حکومت کو کابل میں ایک فیصلہ کرنا ہوگا .وہ پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں یا ٹی ٹی پی کے ساتھ اپنے روابط اور امدادی نیٹ ورک کو جاری رکھنا چاہتے ہیں.

جب تک وہ سابقہ کو مؤخر الذکر پر ترجیح نہیں دیں گے ہمارے تعلقات اسی حالت میں رہیں گے.ہم طالبان حکومت کی مخالفت جاری رکھیں گے اور اپنی بیان کردہ پالیسی پر عمل کرتے رہیں گے.ہم اپنی قوم اور لوگوں کی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کر سکتے.کسی بھی ملک کے خلاف بین الاقوامی یا قومی پابندیوں کا مکمل خیال رکھا جاتا ہے.ایران کے ساتھ تجارت کے لیے کھلی سرحدوں کی پالیسیوں پر عمل کرتے رہیں گے.