سٹی42: بھارت کی شمالی ہمالیائی ریاست اتراکھنڈ میں غیر معمولی بارش برسنے سے فلیش فلڈ آ گیا، سیلاب کے ریلے نے بہت کچھ صفحہ ہستی سے مٹا دیا، درجنوں انسان پانی میں بہہ کر لاپتہ ہو گئے انڈین آرمی کے 9 جوان بھی لاپتہ ہیں، انڈین آرمی کا ایک کیمپ اور ہیلی پیڈ صفحہ ہستی سے مٹ گئے، ایک پورا گاؤں ملیا میٹ ہو گیا، پانی نے کئی منزلہ عمارتوں کو بنیاد سے اکھیڑ ڈالا۔
اتراکھنڈ کے اترکاشی ضلع میں منگل کو بادل پھٹنے س (کلاؤڈ برسٹ) سے زبردست تباہی ہوئی۔ فوج کا کیمپ اور ہیلی پیڈ بہہ گیا، 9 جوان لاپتہ ہیں۔ خراب موسم ریسکیو میں رکاوٹ بن رہا ہے، ندیوں میں طغیانی ہے، اس علاقہ مین ہندو دھرم کی ایک یاترا روک دی گئی ہے۔
اترکاشی سے موصول ہونے والی رپورٹوں کے مطابق اتراکھنڈ کے اترکاشی ضلع میں منگل کی دوپہر بادل پھٹنے کے بعد زبردست تباہی ہوئی۔ فوجی کیمپ، ہیلی پیڈ اور آس پاس کے دیہات اس قدرتی آفت کی زد میں آ گئے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اب تک 4 ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ 50 سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔ فوج، این ڈی آر ایف اور آئی ٹی بی پی کی ٹیمیں ریسکیو میں مصروف ہیں مگر خراب موسم اور زمین کھسکنے کے سبب امدادی کاموں میں دشواری ہو رہی ہے۔
فوجی کیمپ ملبے میں دفن، 9 جوان لاپتہ
انڈین فوج کی 14 راجپوتانہ رائفلز کی یونٹ اتراکھنڈ میں ہرشِل کے علاقے میں تعینات تھی، جس کا کیمپ بھی بے تحاشا بارش سے براہِ راست متاثر ہوا۔ فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل منیش سری واستو نے بتایا کہ پانی اور ملبہ (پہاڑ سے بہہ کر آنے والی مٹی) اچانک کیمپ میں داخل ہو گیا، جس سے 11 جوان لاپتہ ہو گئے تھے، ان میں سے 2 کو بچا لیا گیا ہے، جبکہ 9 جوانوں کی تلاش جاری ہے۔ کمانڈنگ آفیسر کرنل ہرش وردھن تقریباً 150 جوانوں کے ساتھ ریسکیو آپریشن کی قیادت کر رہے ہیں۔ فوج اپنے بچاؤ کے ساتھ ساتھ اب تک 20 سے زائد شہریوں کو محفوظ مقام پر منتقل کر چکی ہے۔
ہیلی پیڈ تباہ، فضائی مدد بند
ہرشِل کا ہیلی پیڈ مکمل طور پر بہہ چکا ہے، جس کی وجہ سےاس خاص علاقے میں فضائی راستے سے بچاؤ کا کام فی الحال ممکن نہیں۔ گنگوتری ہائی وے پر کئی جگہ ملبہ اور بلند علاقوں سے پانی اور گارے کے ساتھ بہہ کر آنے والی چٹانیں گری ہیں، جس سے زمینی راستے بھی بند ہو گئے ہیں۔ گنگوتری-ہرشِل سڑک کا 150 میٹر طویل حصہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔
ندیوں میں طغیانی نے یاترا معطل کروا دی
رودرپریاگ میں 'الکنندا' ندی خطرے کے نشان کو چھو رہی ہے، جس کے سبب کے"دارناتھ یاترا" عارضی طور پر روک دی گئی ہے۔ باگیشور میں 'گوتمی' اور 'سرویو ' ندیوں میں طغیانی کے باعث نشیبی علاقوں میں پانی بھر گیا ہے۔اتراکھنڈ کے کئی اضلاع میں سکول اور آنگن واڑی مراکز بند کر دیے گئے ہیں۔
ریڈ الرٹ جاری ہوا، مشینری نہیں پہنچ سکی
ریاست کے 9 اضلاع میں ریڈ الرٹ اور دیگر میں اورنج الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ مسلسل بارش کے باعث راستے کھولنے، ملبہ ہٹانے کے لئے بھاری مشینری تاحال جائے وقوعہ تک نہیں پہنچ پائی ہے۔ مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ملبے میں دبے افراد کی شناخت کے لیے کوئی جدید سسٹم موجود نہیں، جس سے ریسکیو میں مزید تاخیر ہو رہی ہے۔
ریاستی حکومت نے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے اور فوجی امداد بڑھانے کے لیے مزید دستے روانہ کیے جا رہے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں حالات اب بھی انتہائی نازک ہیں۔
ہمالیہ میں سیلاب نے دھرالی گاؤں میں گھروں اور ہوٹلوں کا صفایا کر دیا۔ 50 لاپتہ
جس نے دھرالی گاؤں میں گھروں اور ہوٹلوں کو بہا دیا، سیلاب مین مرنے والوں کی تعداد زیادہ ہے لیکن اب تک تصدیق چار اموات کی ہوئی ہے اور 50 لاپتہ ہوگئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ امدادی کارکن 'جنگی علاقے کی طرح کام کر رہے ہیں۔
شمالی ہندوستان کی ریاست اتراکھنڈ میں حکام نے منگل کی شام کو اطلاع دی کہ ہمالیہ کے ایک گاؤں میں زبردست سیلاب آنے سے کم از کم چار افراد ہلاک اور 50 دیگر لاپتہ ہیں، اس اچانک سیلاب سے مکانات اور ہوٹل تباہ ہو گئے۔
بھارتی میڈیا پر نشر ہونے والی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پانی اور کیچڑ پہاڑوں سے نیچے گرتے ہوئے عمارتوں کو توڑتے ہوئے اور ان میں سے کچھ کو دفن کرتے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا۔ اس ریلے کے آگے کئی منزلہ عمارتیں بھی نہ ٹھہر سکیں۔
شمالی ہندوستان میں سیلاب کی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔
سب سے زیادہ تباہی اتراکھنڈ کے ایک گاؤں دھرالی میں ہوئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ طوفانی سیلاب مختصر عرصے میں ہونے والی شدید بارشوں کی وجہ سے آیا، یہ ایک موسمیاتی رجحان جسے "بادل پھٹنا" کہا جاتا ہے۔ مقامی حکام کے مطابق تباہ ہونے والی سڑکوں اور مکانات کے ساتھ ساتھ کم از کم 12 ہوٹل بہہ گئے اور متعدد عمارتیں مکانات کی دکانیں منہدم ہو گئیں۔