سٹی42: بھارت میں ہوائی جہازوں کی آمد و رفت کا نظام سخت بحران سے دوچار ہے، روزانہ سینکڑوں فلائٹس منسوخ ہو رہی ہیں، آج تیسرے روز بھی سنگین ٹیکنیکل بحران قابو میں نہیں آیا۔ ہوائی جہاز کے ٹکٹ کی قیمت نو گنا (9 گنا)تک بڑھ گئی۔
سب سے سستی ائیر لائن انڈیگو ائیر لائنز کا ساؤتھ انڈیا میں فلائٹس کا شیڈول تقریباً زمین بوس ہو چکا ہے۔ ہوائی جہازوں کی آمد و رفت کےاس سنگین بحران کے دوران ہوائی جہازوں کی ٹکٹ کی قیمت میں بے تحاشا اضافہ ہو گیا اور ٹکٹین بلیک میں فروخت ہونے لگی ہیں۔
بھارت میں پروازوں کا شیڈول مسلسل چوتھے روز تعطل کا شکار ہے اور انڈیگو ائیر لائنز نے اپنی ایک ہزار سے زائد پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق انڈیگو بحران کے زیر اثر پوری اندسٹری میں اتھل پتھل ہو رہی ہے؛ ہوائی سفر کے کرایوں میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے اور بعض ٹکٹ بڑھ کو 283 ہزار پاکستانی روپے تک جا پہنچے ہیں۔
دکن ہیرالڈ کی رپورٹ کے مطابق "انڈیگو بحران" کا اس ہفتے کے شروع میں آغاز ہوا، IndiGo نے ہندوستان بھر میں سیکڑوں سے 1,000 سے زیادہ پروازیں منسوخ کر دیں۔ بنگلور ائیر پورٹ کیلئے سینکڑوں فلائتس بیک وقت منسوخ کرنا پڑیں۔ بنگلور اور نئی دہلی جیسے بڑے ہوائی مراکز سے تمام ڈومیسٹک منازل کے لئے روانگی تقریباً کولیپس ہو گئی۔ - ہزاروں مسافر پھنسے ہوئے ہیں۔
انڈیگو بحران کی بنیادی وجہ
اِنڈیگو ایئرلائن نے عملے کے روسٹرنگ کے نئے قوانین (نام نہاد فلائٹ ڈیوٹی ٹائم لمیٹیشنز، FDTL) کو اپنانے کے لیے جدوجہد کی، جنہیں سرکاری ریگولیٹر نے پائلٹ کے کام کے محفوظ اوقات کو یقینی بنانے کے لیے نافذ کیا تھا - خاص طور پر رات کی پرواز کو محدود کرنا اور آرام کی مدت کو لازمی قرار دینا اس ریگولیشن کا بظاہر مقصد تھا، لیکن اس کا اثر یہ ہوا کہ ائیر لائن کے فلائت آپریشن ہی برباد ہو گئے اور صرف ایک انڈیگو ہی نہیں تمام ائیرلائنز کے آپریشنز دباؤ میں آ گئے۔
دوسرے اور تیسرے روز بھی انڈیگو کی روزانہ سینکڑوں فلائتس منسوخ ہوئیں، آج ایک ہزار فلائتس منسوخ ہوئین۔ فلائٹس کے اڑنے مین ناکام ہونے کا بے تحاشا دبا ائیرپورٹس پر پڑا جہاں ہر شے دباؤ کا شکار ہو گئی۔
IndiGo نے ان قواعد کی تیاری کی کوشش میں "غلط فیصلہ اور منصوبہ بندی کے خلا" کو عوامی طور پر تسلیم کیا ہے۔
کرایوں میں نو گنا تک اضافہ
چونکہ طلب زیادہ رہنے کے دوران فلائٹ آپریشن سکڑ گئے، مسافروں کی تعداد بیک لاگ کے اضافے کے ساتھ تین روز مین اتنی برھی ہے کہ کرائے بڑھ کر کہیں سے کہیں پہنچ گئے۔
ہوائی کرایوں میں اتنا ہوش ربا اضافہ ہوا، یہاں تک کہ گھریلو راستوں کے لیے بھی۔ ٹکٹ جن کی قیمت عام طور پر دس ہزار سے بیس ہزار بھارتی روپے تک ہوتی ہے وہ بڑھ کر پانچ گنا سے نو گنا تک زیادہ ہو گئے ہیں۔
کچھ رپورٹس کے مطابق بعض راستوں پر کرایہ نوے ہزار بھارتی روپے (283 ہزار پاکستانی روپے) تک پہنچا ہوا ہے اور ٹکٹ تب بھی نہیں مل رہے۔
ائیرپورٹ پر پھنسے ہوئے ایک صنعتکار نے کہا، دس ہزار کا ٹکت جب ساٹھ ہزار میں بکتا ہے تو یہ بلیک مارکیٹنگ اور منافع خوری ہے۔
???? نتیجہ — اب کیا ہو رہا ہے۔
ہوائی جہازوں کی آمدورفت کے نظام میں افراتفری نے ایک سخت ردعمل کو جنم دیا ہے: ملک کے شہری ہوابازی کے ریگولیٹر، DGCA نے IndiGo میں "آپریشنل لیپس" کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی چار رکنی پینل شروع کیا ہے -
ایئر لائن کی بروقت کارکردگی گر گئی ہے، ہوائی اڈے دباؤ سے مغلوب ہو گئے ہیں، اور بہت سے مسافروں کو آخری لمحات کی نشستوں یا متبادل ٹرانسپورٹ (ریل، سڑک) کے لیے ہنگامہ کرنا پڑا ہے۔
چھوٹے برے تمام ائیرپورٹس پر مسافروں کا ہجوم ناقابل کنٹرول ہو رہا ہے۔
متاثرہ مسافروں کے لیے حکومت کا کہنا ہے کہ منسوخ شدہ پروازوں کی ٹکٹیں خود بخود واپس کر دی جائیں گی، اور پھنسے ہوئے لوگوں کے لیے رہائش فراہم کی جائے گی - حالانکہ عمل درآمد اور مناسبیت کی جانچ پڑتال جاری ہے۔
مسافروں کے لےئ مسئ۰ ٹکٹوں کی واپسی کا نہین بلکہ گھر تک پہنچانے والے ٹکٹ خریدنے کا ہے، جو ٹکت دس ہزار کا لیا تھا وہ اب ستر ہزار کا مل رہا ہے، بیس ہزار والا ٹکٹ اب نوے ہزار میں بھی نہیں مل رہا۔
???? آگے کیا ہو گا — ریزولیوشن ٹائم لائن اور ریگولیٹری حرکتیں۔
دباؤ کے تحت، حکام نے کارروائیوں کو مستحکم کرنے میں مدد کے لیے انڈیگو کے لیے رات کی پرواز / آرام کی مدت کی کچھ پابندیوں میں عارضی طور پر نرمی کی ہے۔ لیکن اب قواعد میں نرمیوں سے کام نہیں چل رہا۔ سب کچھ تلپٹ ہوا پڑا ہے۔
IndiGo نے DGCA کو مطلع کیا ہے کہ وہ تقریباً 10 فروری 2026 تک معمول کے فلائٹ آپریشن کو مکمل طور پر بحال کرنے کی توقع رکھتا ہے۔ اس کا مطلب آئندہ تیرہ ہفتوں تک بحران جاری رہنا ہے۔
دریں اثنا، DGCA پینل کی تحقیقات اضافی نگرانی کا باعث بن سکتی ہیں، ممکنہ طور پر قواعد یا رکاوٹیں کہ ایئر لائنز پائلٹوں کو کیسے شیڈول کرتی ہیں — یا بدانتظامی پائے جانے پر جرمانے عائد کر سکتے ہیں۔
⚠ وسیع تر اثرات اور خدشات
ہوائی کرایوں میں اضافے نے بہت سے عام مسافروں کے لیے ہوائی سفر کو ناقابل برداشت بنا دیا ہے، جس سے استطاعت اور رسائی کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ ہزاروں ملازمت پیشہ اور کاروباری افراد اس وقت ائیرپورٹس پر خوار ہو رہے ہیں۔
مسافروں کو اب انتہائی غیر یقینی حالات کا سامنا ہے۔ منقطع منصوبے، غیر متوقع اخراجات، اور اس بارے میں وضاحت کا فقدان کہ آیا پروازیں واقعی چلیں گی۔
✅ تازہ ترین اپ ڈیٹ کیا ہے ( جمعہ کو رات دیر گئے تک تک)
انڈیگو کو کچھ ریگولیٹری ریلیف دیا گیا ہے - کچھ رات کی پرواز / پائلٹ آرام کی پابندیاں عارضی طور پر IndiGo کے لیے نرمی کی گئی۔
بہت سے راستوں پر ہوائی کرایوں میں ابھی تک تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ٹکٹ کی قیمتیں 90,000 روپے تک بتائی گئی ہیں۔
انڈیگو نے اعتراف کیا ہے کہ وہ یکم نومبر کی ڈیڈلائن سے پہلے ان قواعد کے نفاذ کی مناسب تیاری نہیں کر سکی یوں دسمبر کے مصروف ٹریول سیزن کے آغاز سے قبل رواں ہفتے بڑے پیمانے پر پروازوں کی منسوخی ہوئی جس سے ہزاروں مسافر ائیرپورٹس پر پھنس کر رہ گئے۔
انڈیگو کے سی ای او پیئٹر ایلبرز نے مسافروں سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ حالات کو مکمل طور پر معمول پر آنے میں وقت لگے گا اور توقع ہے کہ یہ عمل 10 سے 15 دسمبر کے درمیان مکمل ہو سکے گا، ایلبرز نے بتایا کہ جمعے کو ایک ہزار سے بھی زیادہ پروازیں منسوخ کی گئیں۔
انڈیگو کی درخواست پر سول ایوی ایشن حکام نے ائیر لائن کو جمعے کے روز عارضی طور پر کچھ نئے قواعد سے استثنیٰ دے دیا تاکہ وہ بحران سے نمٹ سکے۔
ہوائی اڈوں پر پھنسے مسافروں کی بڑی تعداد غم و غصے کا اظہار کرتی نظر آئی اور کئی مقامات پر ائیرلائن عملے سے تکرار بھی دیکھنے میں آئی۔