ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

آج بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کو چھ برس مکمل ہو رہے ہیں؛ صدرِ مملکت

آج بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کو چھ برس مکمل ہو رہے ہیں؛ صدرِ مملکت
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42 : صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ آج بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کو چھ برس مکمل ہو رہے ہیں، کشمیری عوام کو اپنے ہی وطن میں بے اختیار بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، کشمیری عوام دھمکیوں، بلاجواز گرفتاریوں اور محاصروں کا شکار ہیں۔ 

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے “یومِ اِستحصال“ کے موقع پر پیغام میں کہا کہ بھارت نے 5 اگست 2019 کو جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی اقدام کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت کو بدلنا اور کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کو کمزور کرنا تھا۔ 

آصف علی زرداری نے کہا کہ بھارت نے چھ برسوں میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی آبادیاتی ساخت اور سیاسی نقشے کو بدلنے کے لیے متعدد اقدامات کیے، من مانی حلقہ بندیاں، غیر کشمیریوں کو ووٹر لسٹ میں شامل کرنا اور باہر کے افراد کو ڈومیسائل دینا بھارتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بعد بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جبر و استبداد میں اضافہ کر دیا ہے۔ 

 صدر مملکت نے کہا کہ مقامی میڈیا کو خاموش اور کشمیری عوام کو آزادی اظہار سے محروم کر دیا گیا ہے، کشمیری عوام اپنے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کے استعمال سے روکے گئے ہیں۔ بھارت کی جارحیت کے تناظر میں اس سال کا یومِ استحصال غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن بنیان المرصوص کی شاندار کامیابی پاکستانی عوام کے لیے باعثِ فخر ہے۔ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے جموں و کشمیر کے تنازع کا حل سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ناگزیر ہے۔ پاکستان کشمیری عوام کو اُن کے جائز حقوق کے حصول تک سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا ۔