ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بلاول بھٹو کی صدر جنرل اسمبلی سے ملاقات، خطے میں امن و امان کیلئے جامع موقف پیش

بلاول بھٹو کی صدر جنرل اسمبلی سے ملاقات، خطے میں امن و امان کیلئے جامع موقف پیش
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

انور عباس: پاکستانی سفارتی وفد کی صدر جنرل اسمبلی سے ملاقات،جارحانہ بھارتی اقدامات کے نتیجے میں پیدا ہونےوالی صورتحال پر بریفنگ دی۔

ترجمان پاکستانی مستقل مشن کا کہنا تھا کہ وفد کی قیادت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کر رہے تھے، ملاقات جنوبی ایشیا میں پہلگام واقعہ کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی اور دشمنی کے پس منظر میں ہوئی۔

بلاول بھٹو نے جنرل اسمبلی کے صدر کو پہلگام واقعہ کے بعد خطے کی بگڑتی ہوئی سلامتی کی صورت حال سے آگاہ کیا,انہوں نے بلا تحقیق, پاکستان پر بھارت کے بے بنیاد اور جلد بازی میں لگائے گئے الزامات پر پاکستان کی شدید تشویش سے آگاہ کیا۔

انہوں نے بھارت کے فوجی اقدامات، بشمول عام شہریوں کو نشانہ بنانا اور سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو بین الاقوامی قوانین اور بین الریاستی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا، بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان کے ذمہ دارانہ اور تحمل پر مبنی اصولی مؤقف کو اجاگر کیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے امن، علاقائی استحکام اور کثیرالطرفہ تعاون سے متعلق پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا,انہوں نے زور دیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن، اقوام متحدہ چارٹر اور سلامتی کونسل متعلقہ قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پرامن حل کے بغیر ناممکن ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ سندھ طاس معاہدے کی بحالی پر اپنا کردار نبھائے,اور عالمی برادری پاکستان و بھارت کے درمیان جامع مکالمے کے آغاز کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

وفد نے روشنی ڈالی کہ سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے سنگین انسانی نتائج سامنے آ سکتے ہیں،اور یہ اقدام ایک خطرناک نظیر قائم کرے گا جو پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے اور پانی پر جنگوں کی راہ ہموار کرے گا۔

وفد نے زور دیا کہ بھارت کی بلااشتعال جارحیت کو "نیا معمول" نہیں بننے دینا چاہیے،کیونکہ یہ قوانین پر مبنی بین الاقوامی نظام کو مجروح کرے گا۔ معاہدوں کی حرمت کا احترام کیا جانا ناگزیر ہے۔

اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے صدر نے اقوام متحدہ کے ساتھ پاکستان کی مسلسل شمولیت کو سراہا,انہوں نے زور دیا کہ امن کا واحد راستہ مکالمہ اور سفارتکاری ہے,انہوں نے اقوام متحدہ چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کی ضرورت پر بھی زور دیا۔