ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ساون آئے ساون جائے؛نامورگلوکار اخلاق احمد کوبچھڑے 27 برس بیت گئے

ساون آئے ساون جائے؛نامورگلوکار اخلاق احمد کوبچھڑے 27 برس بیت گئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:  نامورپلے بیک گلوکار اخلاق احمد کو مداحوں سے بچھڑے 27 برس بیت گئے مگر شائقین موسیقی مدتوں اس مدھر آواز کے سحرسے نہ نکل پائیں گے،ان کے گائے ہوئے گیتوں میں ساون آئے ساون جائے اور سونانہ چاندی نہ کوئی محل جیسے لازوال فلمی گیت بھی شامل ہیں،وہ قریباً پندرہ سال خون کے کینسر کیخلاف جنگ لڑنے کے بعد4 اگست 1999ء کو لندن میں انتقال کر گئے تھے۔
 8 مئی 1946ء کو دہلی میں پیدا ہونیوالے اخلاق احمد کراچی میں قیام کے دوران شادی بیاہ کے فنکشنز میں گایاکرتے تھے، لیکن باقاعدہ فنّی سفر کا آغازکراچی میں اداکار ندیم(نذیربیگ) اور مسعود رانا کے ساتھ ایک اسٹیج پرفارمنس سے کیاجس کے ساتھ ہی پاکستان ٹیلی ویژن پر بھی گلوکاری کا آغاز کردیا اور ٹیلی ویژن کے مقبول گلوکار بن گئے۔
اخلاق احمدنے پلے بیک گلوکاری کاآغاز 1972ء میں فلم’’پاکیزہ‘‘سے کیا اور1973ء میں فلم ’’بادل اور بجلی‘‘کے گیت ’’بہکے قدم انجانی راہیں‘‘سے ان کی مقبولیت کا آغاز ہوگیا،انہوں نے جس وقت گائیکی کی دُنیا میں قدم رکھا اس دور میں گلوکاروں کا فلمی دُنیا میں جگہ بنانا نہایت مشکل تھا،تاہم انہوں نے اپنی مسحورکن آواز اورانتھک محنت سے اپنا ایک الگ مقام بنایا،انہوں نے اس دور میں اپنی آواز کا جادو جگایا جب پس پردہ موسیقی پرشہنشاہِ غزل مہدی حسن،مسعود رانا اوراحمد رُشدی کا راج تھا۔
اداکار ندیم نے 1974ء میں اپنی فلم’’مٹی کے پتلے‘‘میں اخلاق احمدکی آواز میں ایک نغمہ شامل کیا اور موسیقار روبن گھوش نے اخلاق احمدکی آواز میں اپنی فلم’’چاہت‘‘کا ایک نغمہ’’ساون آئے ساون جائے‘‘ ریکارڈ کروایاجو اخلاق احمد کے فلمی سفر کا سب سے مقبول نغمہ قرار پایاجس پر انہیں نگار ایوارڈ بھی ملاتھا۔’’ساون آئے ساون جائے ‘‘کی ریلیز کے بعد اخلاق احمد شُہرت کی بلندیوں کی طرف آگئے،اسی دوران موسیقار روبن گھوش نے فلم’’بندش‘‘ میں اخلاق احمد کی آواز میں شاعر سعید گیلانی کا لکھا ہوا گیت ریکارڈ کیا جس کے بول تھے’’سونا نہ چاندی نہ کوئی محل جان من تجھ کو میں دے سکوں گا‘‘،اس گیت نے اخلاق احمد پر شہرت کے دروازے کھول دیئے اوروقت گزرنے کیساتھ ساتھ وہ نامور فنکاروں کی صف میں شامل ہوگئے۔

https://www.24urdu.com/digital_images/large/2026-08-04/news-1785829350-7128.jpg

شرافت،دوساتھی،پہچان،دلربا،اُمنگ،زبیدہ،انسان اورفرشتہ، انسانیت، مسافر، راستے کا پتھر،آئینہ، سنگم،آدمی،پرنس، انمول محبت، خاک اور خون، بندش، مہربانی، نادانی، دوریاں، بسیرا اور لازوال جیسی فلموں میں ان کے گائے ہوئے گیت بے حد پسند کئے گئے تھے،انہوں نے 90 کے لگ بھگ فلموں میں مجموعی طور پر 140 گیت گائے جن میں سے بیشتر گانے بے حد مقبول ہوئے جن پر آٹھ نگار ایوارڈحاصل کئےتھے۔

  https://www.24urdu.com/digital_images/large/2026-08-04/news-1785829350-3842.jpg

اخلاق احمدنے اپنے دور کے تقریباً تمام مشہور موسیقاروں کے ساتھ کام کیا جن میں روبن گھوش،سہیل رعنا،نثار بزمی اور ایم اشرف شامل ہیں، سب سے زیادہ ڈوئٹس (دوگانے)ناہید اختر اور نیّرہ نور کے ساتھ گائے، ان کے مقبول گیتوں میں سماں وہ خواب کا سماں،کبھی خواہشوں نے لوٹا،کبھی زندگی نے مارااورحسین وادیوں سے یہ پوچھو بھی شامل تھے،ان کا آخری گیت فلم’’گھونگھٹ‘‘ کا’’یہ دل دیوانہ ہے پیار کا‘‘ تھا۔

  

Ansa Awais

Content Writer