سٹی42: راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ نے آج چار اگست کی شام ضلع راولپنڈی میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے اعلان کے مطابق آج 4 اگست سے 10 اگست تک راولپنڈی میں کسی بھی جلوس اور جلسے کی اجازت نہیں ہو گی۔
ضلعی انتظامیہ کے اعلان کے مطابق دفعہ 144 کا نفاذ شرپسند عناصر کے سرکاری اور غیر سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے اندیشہ کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے دفعہ 144 کا جو نوٹیفیکشن جاری کیا ہے اس میں اجتماعات پر پابندی کا واضح ذکر کیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کا "ملک گیر احتجاج" کہاں کہاں ہو گا
پی ٹی آئی کے ذمہ دار ذرائع نے پیر 4 اگست کی شام کو اعتراف کیا کہ خیبر پختونخوا میں میلے ٹھیلے جیسے احتجاج کے سوا کسی جگہ شور شرابے کا امکان نہیں ہے کیونکہ پی ٹی آئی نے 5 اگست کے احتجاج کے حوالے سے اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی ہے۔ اسلام آبد مین پی ٹی آئی اپنا جلسہ اور جلوس کا پروگرام پہلے ہی منسوخ کر چکی ہے۔ لاہور اور پنجاب کے کسی دوسرے شہر میں آج 4 اگست کی شام تک کسی احتجاجی جلسی اور جلوس کا کوئی پروگرام اناؤنس نہیں کیا گیا۔ صرف اڈیالہ جیل راولپنڈی کے باہر ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان کا احتجاج اناؤنس کیا گیا تھا۔
پشاور میں پانچ اگست کو "احتجاج" شام کو رکھا گیا ہے۔ صوبائی حکومت کے اعلان کے مطابق پشاور مین پانچ اگست کی شام کو رنگ روڈ سے ایک ریلی نکالی جائے گی۔
5 اگست کے پروگرام میں پنجاب، سندھ، وفاقی دارالھکومت حتیٰ کہ خیبر پختونخوا میں بھی عوام کے دلچسپی نہ لینے کے بعد آج شام پاکستان تحریک انصاف کی 5 اگست کے احتجاج کے بارے میں میں امیدیں ختم ہونے کے بعد اپنے کل کے احتجاج کے منصوبے میں "14 اگست تک توسیع" کی بات کی جا رہی ہے۔ 14 اگست پاکستان کا یومِ آزادی ہے، اس روز پاکستان کے عوام سیاسی وابستگی کو بھول کر صرف پاکستان کے پرچم کے ساتھ وابستگی کا اظہار کرنا پسند کرتے ہیں۔ عام طور پر سیاسی جماعتین یومِ آزادی پر کسی سیاسی سرگرمی سے گریز کرتی ہیں۔
اب پی ٹی آئی کے ذرائع بتا رہے ہیں کہ پی ٹی آئی کی تحریک کا اصل مقصد بانی کی اڈیالہ جیل سے رہا ئی ہے، اس کا نام نہاد بحالی جمہوریت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چاروں صوبوں کے ذمہ داران نے احتجاجی شیڈول اعلیٰ قیادت کوبھیج دیا، احتجاج کیلئے تمام ٹکٹس ہولڈرز کو بھی الرٹ کردیا گیا اور صوبوں کے صدور اور کوآرڈی نیٹرز قیادت سے رابطے میں رہیں گے۔