ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

 بشریٰ اقبال نے طوبیٰ انور کو احسان فراموش قرار دے دیا

 بشریٰ اقبال نے طوبیٰ انور کو احسان فراموش قرار دے دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: معروف سیاسی شخصیت اور ٹی وی اینکر مرحوم عامر لیاقت حسین کی پہلی و سابقہ اہلیہ سیدہ بشریٰ اقبال نے طوبیٰ انوار کے حالیہ بیان پر ان کی حقیقت بے نقاب کرتے ہوئے اُنہیں آڑے ہاتھوں لے لیا۔

حال ہی میں ایک انٹرویو میں طوبیٰ انوار نے میڈیا انڈسٹری میں غیر متوقع طور پر قدم رکھنے کا دعویٰ کیا جبکہ عامر لیاقت حسین طوبیٰ سے طلاق کے بعد کہہ چکے ہیں کہ اداکارہ کو میں نے میڈیا انڈسٹری میں متعارف کروایا تھا۔ اس بیان کے بعد ڈاکٹر بشریٰ اقبال نے طوبیٰ انوار کے ویڈیو کلپ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا  کہ اگر احسان فراموشی اور جھوٹ کا کوئی چہرہ ہوتا تو وہ یہی ہوتا، انہوں نے یہ بھی لکھا کہ سچ بتا دوں؟

طوبیٰ انوار کے اس بیان اور بشریٰ اقبال کے ردعمل کے بعد سوشل میڈیا صارفین کا بھی طوبیٰ انوار کو ان کے جھوٹ بولنے  پر آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہنا تھا  کہ یہ سب جانتے ہیں کہ عامر لیاقت حسین نے ہی طوبیٰ کو ٹی وی پر متعارف کرایا تھا۔ایک صارف نے لکھاکہ طوبیٰ انوار خود کو ایسے پیش کر رہی ہیں جیسے ان کا عامر لیاقت سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا جبکہ ایک اور صارف کا کہنا تھا کہیہی عورت عامر لیاقت کی زندگی برباد کرنے کی وجہ بنی اور اب معصوم بننے کی کوشش کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ مرحوم اسکالر ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی پہلی سابقہ اہلیہ ڈاکٹر بشریٰ اقبال کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے، عامر لیاقت نے 2020 میں بشریٰ اقبال کو طلاق دے کر طوبی انوار سے دوسری شادی کرلی تھی بعد ازاں طوبی سے دوسری شادی کے بعد ڈاکٹر بشریٰ اقبال اور ان کے بچوں نے عامر لیاقت سے قطع تعلق کر لیا تھا  لیکن عامر لیاقت کا دوسری شادی کا یہ فیصلہ بھی کارآمد ثابت نہ ہوا اورسیدہ طوبیٰ انوار نے 2022ء میں خلع کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا۔

اس کے  بعد حالانکہ عامر لیاقت نے تیسری شادی دانیہ شاہ سے کی لیکن نجی ویڈیو لیک ہونے کے سبب اپنی زندگی کے آخری ایام میں ڈاکٹر عامر لیاقت حسین شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئے تھے جس کے باعث جون 2022ء میں وہ دنیا سے کوچ کر گئے تھے۔ وہی سابقہ اہلیہ جنہیں عامر لیاقت نے طوبیٰ انوار کیلئے ٹھکرا دیا تھا   سابق شوہر کی ناگہانی موت کے بعد ڈاکٹر بشریٰ اقبال کھل کر سامنے آئیں اور اپنے بچوں کے والد پر ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کی اور انہیں انصاف دلانے کیلئے تاحال جدو جہد کررہی ہیں۔