ویب ڈیسک: مشرقِ وسطیٰ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں رینٹ خام تیل کی قیمت ایک دن میں 5.79 فیصد اضافے کے بعد 77.09 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کے بعد مجموعی طور پر تیل کی قیمتوں میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور نرخ 80 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ بحران طول پکڑتا ہے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہوتی ہے تو خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک بھی جا سکتی ہے۔
یاد رہے کہ یکم مارچ کو حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 8 روپے فی لیٹر اضافہ کیا تھا، اس وقت خام تیل 73 ڈالر فی بیرل تھا جو اب بڑھ کر 77.09 ڈالر ہو چکا ہے، جبکہ مزید اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
توانائی ماہرین کے مطابق آئندہ 15 روزہ جائزے میں پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 10 سے 15 روپے فی لیٹر تک بڑھ سکتی ہے، جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 20 روپے تک اضافہ متوقع ہے۔ اگر عالمی منڈی میں خام تیل 80 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا تو مقامی سطح پر قیمتوں میں 25 روپے فی لیٹر تک اضافہ ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے ممکنہ معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے 18 رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کمیٹی کے سربراہ ہوں گے، جبکہ اس میں وزیر پیٹرولیم، وزیر توانائی، وزیر مملکت خزانہ، متعلقہ وزارتوں کے سیکریٹریز، گورنر اسٹیٹ بینک، چیئرمین ایف بی آر، چیئرمین اوگرا اور دیگر حکام شامل ہیں۔
یہ کمیٹی عالمی صورتحال کے پاکستان کی معیشت، تیل کی دستیابی اور قیمتوں پر اثرات کا جائزہ لے گی اور پیٹرولیم سپلائی کو متاثر ہونے سے بچانے کے لیے حکمتِ عملی مرتب کرے گی۔