رائو دلشاد:وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کاہنہ میں پیش آنے والے افسوسناک حادثے میں جاں بحق بچوں کے والدین سے ملاقات کر کے تعزیت کی اور متاثرہ خاندانوں کے لیے مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے سوگوار خاندانوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا درد بانٹا، دکھی ماؤں کو گلے لگا کر دلاسہ دیا اور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ نے حادثے میں جاں بحق ہونے والے ہر بچے کے خاندان کے لیے 20 لاکھ روپے کے امدادی چیک جبکہ زخمی بچوں کے والدین کے لیے 5 لاکھ روپے کے چیک فراہم کیے۔
مریم نواز نے متعلقہ حکام کو زخمی بچوں کے بہترین علاج اور دیکھ بھال کو یقینی بنانے کی ہدایت بھی جاری کی۔
متاثرہ خاندانوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ "لفظ کم ہیں، غم بہت بڑا ہے"۔ انہوں نے کہا کہ دکھی ماؤں کے آنسوؤں کا مداوا کوئی رقم نہیں کر سکتی، ننھے پھولوں کا اس طرح بچھڑ جانا دلخراش ہے اور حکومت متاثرہ خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ "آپ کے بچوں کا غم میرا اپنا غم ہے".
دوسری جانب باغبانپورہ میں اسکول کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے کے بعد وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے جائے حادثہ کا دورہ کیا اور واقعے کو سنگین غفلت قرار دیتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا۔
صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے بتایا کہ اسکول انتظامیہ نئی عمارت لے کر اس میں توسیعی تعمیرات (ایکسٹینشن) کر رہی تھی، تاہم تعمیراتی کام کے دوران لینٹر کو مقررہ مدت مکمل ہونے سے پہلے ہی کھول دیا گیا، جس کے باعث حادثہ پیش آیا، راہگیر زخمی ہوئے اور ایک بچہ جاں بحق ہوگیا۔
انہوں نے کہا کہ ایجوکیشن اتھارٹی کی ٹیم نے 15 روز قبل عمارت کا معائنہ کیا تھا اور اسکول انتظامیہ کو وارننگ بھی جاری کی تھی، مگر اس کے باوجود 15 دن انتظار کرنے کے بجائے صرف 5 دن بعد لینٹر کھول دیا گیا۔
رانا سکندر حیات کے مطابق اسکول انتظامیہ نے عمارت کی توسیع سے متعلق محکمہ تعلیم کو آگاہ نہیں کیا، جبکہ ضلعی انتظامیہ نے خطرناک قرار دی جانے والی عمارت کو مکمل طور پر مسمار کر دیا ہے۔
وزیر تعلیم نے اعلان کیا کہ لاہور میں 760 اکیڈمیز بند کی جا رہی ہیں، جبکہ صوبے بھر کے 13 ہزار اسکولوں کو عمارتوں کے فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ستمبر سے کھلنے والے ہر نئے اسکول کے لیے فٹنس سرٹیفکیٹ لازمی ہوگا۔
انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو غیر رجسٹرڈ نجی اسکولوں میں داخل نہ کروائیں۔ وزیر تعلیم نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ 30 جون کو سمر کیمپ ختم ہونے کے باوجود اسکول میں سمر کیمپ کیوں جاری تھا۔
رانا سکندر حیات نے بتایا کہ واقعے میں غفلت برتنے پر 2 ڈپٹی ڈی ای اوز اور 2 اے ای اوز کو معطل کر دیا گیا ہے، جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔