سٹی 42 : وزیردفاع خواجہ آصف نے ملک میں جاری دہشتگردی اور سکیورٹی فورسز کی دہشتگردوں کیخلاف کارروائیوں کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایوان دہشت گردی کے خلاف یکجا ہو جائے۔ بلوچستان میں 2 روز کے دوران 177دہشت گردمارے گئے ہیں ۔سکیورٹی فورسز کی دہشت گردوں کےخلاف کارروائیاں جاری ہیں۔
اسپیکر ایاز صادق کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہورہی ہے۔ بلوچستان میں بھارتی حمایت یافتہ پراکسیز موجودہیں۔سکیورٹی فورسز کی دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ بلوچستان میں کاروباری نقصانات ریکورکرنےکیلئے تحریک چلائی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران سے 40 روپے لٹر تیل لے کرکراچی میں 200 روپے لٹربیچا جاتا ہے۔تیل کی اسمگلنگ روکنے کی وجہ سے یہ لوگ امن و امان برباد کررہے ہیں۔کلبھوشن لاہوریا کراچی سے نہیں بلوچستان سے پکڑا گیا۔بلوچستان میں دہشتگردوں کے پیچھے بھارت کھڑا ہے۔بلوچستان میں جو ہوا وہ قوم کیلئے بڑا المیہ ہے۔بلوچستان میں مزدوروں کو مارا گیا۔کرپشن کا دیمک ملک کو کھا رہا ہے۔
وزیردفاع نے کہا کہ دہشت گردوں سے مذاکرات نہیں ہوں گے۔دہشت گردوں کو پوری طاقت سے جواب دیا جائے گا۔کالعدم بی ایل اے جرائم پیشہ عناصر کاعسکری ونگ ہے۔بلوچستان میں آبادی کم رقبہ زیادہ ہے،دہشت گرد اس کافائدہ اٹھاتے ہیں۔ان کے پاس 20 لاکھ روپے کی تو صرف رائفل ہے ہمارے پاس وہ نہیں ہے۔کون اس کی ادائیگی کر رہا ہے، کون اسلحہ کے اندر انویسٹمنٹ کررہا ہے ۔امریکن اسلحہ ہے۔میرے پاس تو اسلحے کا لائسنس بھی نہیں ہے۔آئی ڈی کارڈ دیکھ کے اس کو قتل کر دیا جاتا ہے۔ہزاروں مسافروں کو آئی ڈی کارڈ دیکھ کے مارا گیا۔مزدوروں کو مارا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جعفر ایکسپریس میں کن کو مارا گیا ہے۔وہ روزی کمانے وہاں جاتے ہیں ۔وہ لبریشن آرمی وہ چوری کی آرمی ہے۔آج بھی بلوچستان میں کوئی ایسا علاقہ نہیں ہے جہاں ان کی رٹ ہو۔ ان لوگوں سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔خواتین بچوں سویلینز کو بھی یہ نہیں چھوڑتے۔اس کا جواب پوری طاقت سے دیا جائے گا۔تمام سیاستدانوں کی پیچھے یہ پارلیمنٹ کھڑی ہوگی۔ اس ادارے نے ہمارا قد کاٹھ بڑھایا ہوا ہے۔پوار ایوان دہشت گردی کے خلاف یکجا ہو جائے۔یہ پوری قوم کی ذمہ داری ہے۔اس ایوان کو اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔