ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

  ٹریفک رولز وائلیشن پر بچوں کو اریسٹ نہ کریں، وارننگ دیں، آگاہی مہم چلائیں، مریم نواز کےنئےاحکام

Traffic Rules Violation, Chief Minister's Instructions, Punjab Traffic Police, CJ Aila Nelum, City42
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے  عدالتِِ عالیہ کے حکم کےسامنے گھٹنے ٹیک دیئے اور  ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی میں ملوث پائے جانے والے "سٹوڈنٹس" کو ہتھکڑیاں لگانے سے روک دیا۔

 کل پنجاب کے وزیر تعلیم  رانا سکندر حیات نے واضح کیا تھا کہ ٹریفک قوانین کی وائلیشن کرنے والے سٹوڈنٹ ہوئے تب بھی ان کو گرفتار کیا جائے گا اور ہتھکڑی لگے گی۔
آج وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی میں ملوث سٹوڈنٹس کو بچے قرار دیا اور " بچوں کو ہتھکڑیاں لگانے" پر سخت برہمی کا اظہار بھی کر دیا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ بچوں کا قصور نہیں ہے، ہم نے انہیں ہیلمٹ پہننے کی عادت ہی نہیں ڈالی۔  والدین بچوں کو روڈسیفٹی کے لئے ہیلمٹ کی اہمیت اور ضرورت سے آگاہ کریں۔
 اس کے ساتھ ہی وزیراعلیٰ مریم نواز نے 16سال کے بچوں کو "سمارٹ کارڈ"  دینے اور ان کو " موٹرسائیکل ڈرائیونگ لائسنس" جاری کرنے کا اصولی فیصلہ بھی کیا۔ 

پس منظر

لاہور میں، ٹریفک پولیس کو حال ہی میں بعض سنگین یا بار بار ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر وائلیشن میں ملوث افراد کو ہتھکڑیاں لگانے کا اختیار دیا گیا ہے۔ یہ ایک نئی حکمت عملی کا حصہ ہے تاکہ سختی سے نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے اور مستقبل میں ہونے والے جرائم کو روکا جا سکے، صرف جرمانے پر انحصار کرنے سے آگے بڑھ کر گرفتاریاں کرنے ، حوالات مین بند کرنے کے متعلق احکامات کا چرچا ہوتے ہی، لوگوں کو ان بچوں کی فکر ہو گئی جو موٹر سائیکل اور گاڑی چلاتے ہیں، تریفک رولز کی دھجیاں بھی اڑاتے ہیں اور بڑے ہو کر مزید تعلیم کے لئے ان کے والدین ان کو بیرون ملک بھیجنے کے خواب بھی دیکھتے ہیں۔ ایسے بچوں کو اب ٹریفک رولز وائلیشن پر ہتھکڑیاں لگ گئیں تو بیرون ملک جانے کا خواب تو منتشر ہو جائے گا۔ اس نکتے کو لے کر سوشل میڈیا پر بچوں کو ہتھکڑی سے بچانے کی کیمپین چل گئی۔

عالتِ عالیہ کا ھکم

آج ہی لاہور ہائی کورت کی چیف جسٹس عالم نیلم نے اپنے چیمبر میں پولیس کے انسپکٹر جنرل کو بلوا کر ہدایت کی کہ کم عمر وائلیٹرز کو براہ راست گرفتار نہ کیا جائے، پہلی وائلیشن میں ملوث پائے گئے کم عمر (غالباً 16 سال سے کم عمر) بچوں کو  وارننگ دے کر چھوڑ دیا جائے، دوسری مرتبہ کوئی بچہ وائلیشن میں ملوث ہو تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم کے اس حکم کے چند ہی گھنٹے بعد پنجاب میں منظر بدل گیا؛ پولیس کو ہدایت مل گئی کہ صوبے میں کم عمر ہونے کے باوجود ٹریفک رولز کی وائلیشن میں ملوث بچوں کو آگاہ کرنے کے لئے ایک ہفتے کی آگاہی مہم چلائی جائے۔ اس دوران بچوں کی گرفتاریاں نہیں کی جائیں گی۔
آج صوبے بھر میں ٹریفک پولیس کو عوام بالخصوص طلبہ کے لئے ہفتہ آگاہی  کا اہتمام کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔
موٹر سائیکل چلانے کے دوران ہیلمٹ نہ پہننے پر پہلی خلاف ورزی کی صورت میں "وارننگ چالان" ہوگا
پنجاب میں ٹریفک کے لئے پہلی مرتبہ ڈرون اور باڈی کیم کا استعمال شروع ہو چکا ہے۔

مریم نواز شریف نے آج اعلیٰ سطحی اجلاس میں کہا، ٹریفک قوانین عوام کی جان کی حفاظت کے لئے بنائے جاتے ہیں۔  عوام کو اپنی حفاظت کے لئے عادتوں کو بدلنا ہوگا۔

 مریم نواز شریف نے کہا،  ٹریفک قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لئے ہر شہری اپنا کردار ادا کرے۔ 

وزیراعلیٰ نے کہا، ہم  معصوم بچوں کو نہیں پکڑنا چاہتے مگرقانون کی پاسداری ضروری ہے۔ 

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بچوں کا قصور نہیں ہے، ہم نے انہیں ہیلمٹ پہننے کی عادت ہی نہیں ڈالی۔  والدین بچوں کو روڈسیفٹی کے لئے ہیلمٹ کی اہمیت اور ضرورت سے آگاہ کریں۔

 مریم نواز شریف نے پولیس کے اہلکاروں کو سختی سے ہدایت کی کہ ٹریفک پولیس عوام کی عزت نفس کا  خیال رکھے، بداخلاقی اور بدتمیزی نہ کی جائے۔

مریم نواز شریف کو آج دی گئی بریفنگ مین ٹریفک پولیس کے سینئیر افسر نے بتایا کہ ٹریفک پولیس یونیفارم تک کا کوئی "لحاظ" نہیں کر رہی، جو کوئی بھی وائلیشن مین ملوث ہے اس کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے۔  ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر 2445 پولیس گاڑ یاں قانون کی زد میں آگئیں۔سب کے قانون کے مطابق چالان ہوئے۔