اقصیٰ شاہد :دنیا بھر میں آج عالمی یوم مزدور منایا جا رہا ہے، مگر پاکستان کے بڑے شہروں خصوصاً کراچی میں ریلوے اسٹیشنز پر کام کرنے والے محنت کش آج بھی بنیادی سہولیات اور مناسب اجرت سے محروم دکھائی دیتے ہیں۔
کراچی کینٹ اور سٹی اسٹیشن پر مسافروں کا سامان اٹھانے والے کینٹ اسٹیشن پر مسافروں کا بوجھ اٹھانے والے قلی بھی مہنگائی سے پریشان دکھائی دیےقلی کہتے ہیں کہ جتنی بھی محنت کرلیں لیکن مزدوری محنت کے مطابق نہیں ملتی .
ایک قلی نے بتایا کہ "ہم صبح سے رات تک بھاری سامان اٹھاتے ہیں، کبھی 800 روپے ملتے ہیں تو کبھی 1500، مگر مہنگائی نے سب کچھ مشکل کر دیا ہے۔ جو کماتے ہیں اس میں سے بھی ایک حصہ ٹھیکیدار کو دینا پڑتا ہے۔"
قلیوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی اور کم آمدن کے باعث زندگی گزارنا مشکل ہو گیا ہے، جبکہ کئی مزدور بہتر روزگار کی تلاش میں اس پیشے کو چھوڑنے پر بھی مجبور ہو رہے ہیں۔
یومِ مزدور کے موقع پر یہ صورتحال ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ محنت کش طبقے کی اصل مشکلات ابھی تک حل نہیں ہو سکیں، اور انہیں عملی سطح پر بہتر تحفظ اور اجرت کی ضرورت ہے۔