سٹی42: پہلگام حملےکے چندگھنٹوں بعد حملہ آوروں کے نام کیسے سامنے آئے؟ بھارت میں اب زیادہ سنجیدگی سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
بھارت میں پہلگام حملےکو سازش اور سکیورٹی ناکامی قرار دینے کا سلسلہ جاری ہے۔ بھارت کی نریندر مودی حکومت نے تو کوئی تحقیقات ہونے سے پہلے ہی پہلگام حملہ کا الزام پاکستان پر تھوپ دیا لیکن اس حملے مین مرنے والوں کے ؒواحقین بھی اب نریندر مودی حکومت کے دعووں پر سنجیدہ سوالات اٹھا رہے ہیں۔
پہلگام حملےمیں مارےگئے افراد میں ریاست گجرات کے شیلیش بھائی کلاٹھیا کی بیوہ نے نریندر مودی کے وزیر سی آر پاٹل پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا، آپ کےپاس بہت سی وی آئی پی کاریں ہیں لیکن وہاں تو نہ کوئی فوجی تھا اور نہ ہی کوئی میڈیکل ٹیم تھی۔
بھارت میں کشمیر کےامورکی ماہر سمجھی جانے والی خاتون صحافی انورادھا بھےسین نے کہاکہ واقعہ دنیاکے سب سے زیادہ فوجی زون میں پیش آیا، اس لیے بڑے سوالات اٹھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا سوال یہ ہےکہ حملےکےچندگھنٹوں بعد ہی مبینہ حملہ آوروں کے نام کیسے منظرِ عام پر آئے؟سکیورٹی فورسزکوپہنچنے میں وقت لگا لیکن چندہی گھنٹوں میں حملہ آوروں کی تصاویر بھی سامنے آ گئیں، تحقیقات زیادہ قابل اعتبار نہیں لگتیں۔
انورادھا بھسین نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ کشمیر کے عوامی مقامات پر فوجی تعینات دیکھی ہے، پہلگام میں سکیورٹی نہ ہونا باعثِ حیرت ہے۔
انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ حملے کے چند ہی گھنٹوں بعد حملہ آوروں کے نام کیسے پولیس کو مل گئے۔ پہلے تو سکیورٹی کو وہاں پہنچنے میں بہت وقت لگا، چند ہی گھنٹوں میں اُن کے پاس حملہ آوروں کی تصاویر تک موجود تھیں۔ وہ اس نتیجے پر کیسے پہنچے۔
انورادھا بھیسین نے اپنی رائے ان الفاظ میں بتائی کہ اب تک کی بھارتی تحقیقات قابل اعتبار نہیں لگتیں۔
واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں 26 بھارتی سیاحوں کے قتل کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ بڑھ گیا ہے۔
بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی سمیت کیے جانے والے اقدامات پر پاکستان نے بھی بھرپور جواب دیا ہے۔
ماہر سکیورٹی امور امیتابھ مٹو نے کہا کہ یہ انٹیلی جنس کی ناکامی ہے، کسی بھی صورت یہ سکیورٹی میں بڑی کوتاہی تھی۔