ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

علی ظفر سمیت متعدد پاکستانی مشہور شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس بلاک

علی ظفر سمیت متعدد پاکستانی مشہور شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس بلاک
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک :بھارتی حکومت نے ہانیہ عامر، ماہرہ خان، علی ظفر سمیت متعدد پاکستانی مشہور شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس بلاک کر دیے ہیں۔

ان پروفائلز تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے ہندوستانی صارفین کو ایک قانونی درخواست کی تعمیل کی وجہ سے ایک پیغام دکھایا جاتا ہے جس میں کہا جاتا ہے، "اکاؤنٹ ہندوستان میں دستیاب نہیں ہے"،ان فنکاروں میں ماہرہ خان، ہانیہ عامر اور علی ظفر سمیت متعدد شامل ہیں۔
 پاکستانی ادکارہ ماہرہ خان، ہانیہ عامر اور گلوکار علی ظفر کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بلاک کرنے سے قبل انڈین حکومت کم از کم 16 پاکستانی یوٹیوب چینلز پر پابندی عائد کر چکی ہے۔
 مشہور اداکارہ ہانیہ عامر نے پہلگام سانحے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’کسی بھی جگہ کا سانحہ ہم سب کے لیے سانحہ ہے، میرا دل ان معصوم جانوں کے ساتھ ہے جو حالیہ واقعات سے متاثر ہوئیں۔ دکھ میں، غم میں اور اُمید میں، ہم ایک ہیں،’جب معصوم جانیں ضائع ہوتی ہیں تو وہ صرف ان کا نقصان نہیں ہوتا، وہ ہم سب کا دکھ ہوتا ہے، چاہے ہم کہیں سے بھی ہوں غم کی زبان ایک ہی ہوتی ہے، کاش ہم ہمیشہ انسانیت کا انتخاب کریں۔‘
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی مشہور اداکارہ اور بالی وڈ میں سنہ 2017 میں شاہ رخ خان کے ہمراہ فلم ’رئیس‘ میں ڈیبیو کرنے والی مائرہ خان کا بھی اکاؤنٹ انڈیا میں بلاک کیا گیا ہے۔ان کے علاوہ دیگر متعدد پاکستانی شوبز شخصیات کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس انڈیا میں بلاک کیے جانے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

 یاد رہے کہ سنہ 2016 میں انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے علاقے اُوڑی میں انڈین فوجی اڈے پر حملے کے بعد سے کسی بھی پاکستانی اداکار نے انڈین فلم انڈسٹری میں کام نہیں کیا تاہم تقریباً ایک دہائی بعد بالی وُڈ میں کم بیک کرنے والے پاکستانی اداکار فواد خان کی فلم ’عبیر گلال‘ کی ریلیز نو مئی کو طے تھی جو حالیہ واقعات کے بعد روک دی گئی ہے۔
پہلگام حملے کے بعد انڈیا نے الزام پاکستان پر عائد کرتے ہوئے سخت اقدامات اٹھائے تھے جس میں سندھ طاس معاہدہ کی معطلی سمیت پاکستانی شہریوں کو ملک بد کرنے اور اٹاری واہگہ کراسنگ کو بند کرنے جیسے اقدامات شامل تھے۔
ان اقدامات کے جواب میں پاکستان نے انڈین طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی تھی اور انڈیا کے ساتھ تمام تجارتی تعلقات، بشمول تیسرے ممالک کے ذریعے تجارت، معطل کر دیے تھے۔
پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ پانی کے بہاؤ کو روکنے کی کسی بھی کوشش کو ’جنگی اقدام‘ تصور کیا جائے گا۔