سٹی 42 : عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ جب تک سیاسی انتشار کو ختم نہیں کریں گے تو ملک آگے نہیں بڑھےگا، بلوچستان کے وسائل جب تک یہاں کے نوجوانوں کو نہیں ملیں گے، امن نہیں آئے گا۔
شاہد خاقان عباسی نے کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان 10، 15 سالوں سے سانحات کا شکار ہے، آج بلوچستان کی شاہراہیں محفوظ نہیں، بلوچستان کی معیشت متاثر ہو رہی ہے اور نوجوان مایوس ہو رہےہیں، سوچنے کی ضرورت ہے کہ بلوچستان میں یہ معاملات کیوں ہیں؟۔ انہوں نے کہا کہ جب تک قانون کی حکمرانی نہیں ہوگی ملک کے معاملات آگے نہیں بڑھیں گے، آئین میں رہ کر وسائل کی تقسیم کرنی ہے اور معاملات کو چلانا ہے، اس سے باہر جائیں گے تو معاملات خراب ہوں گے۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا دہشت گردی کا مقابلہ ہم پر لازم ہے لیکن یہ معاملات کیوں پیدا ہو رہےہیں اس کی جڑ تک جاناہوگا، یہ ممکن نہیں کہ بلوچستان میں لوگ اغوا ہو رہےہوں، قتل ہو رہےہوں اورملک کے معاملات درست چل رہے ہوں، عوام کو حقیقی نمائندگی اور وسائل دینے سے ہی بلوچستان کے مسائل حل ہوں گے۔انہوں نے کہا یہ ہمارا رسمی دورہ نہیں، آج پاکستان کی ضرورت ہے کہ لوگ جانیں کہ بلوچستان کےلوگ کیا سوچ رہےہیں۔
انہوں نے کہا یہ ممکن نہیں کہ پاکستان امیر ہو اور بلوچستان غریب رہ جائے، بلوچستان کو پاکستان کا امیر ترین صوبہ ہونا چاہیے، بلوچستان کے وسائل جب تک یہاں کے نوجوانوں کو نہیں ملیں گے، امن نہیں آئے گا.