ویب ڈیسک: ٹورنٹو سے لزبن جانے والے مسافر طیارے کے پائلٹ نے دوران پرواز وہ کام کیا جس کی کسی کو بھی امید نہ تھی، جہاز میں موجود ہر مسافر کا سانس اوپر کا اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔
اَزورز کی فضا میں خاموشی سے سرکتا وہ طیارہ آج بھی ہوا بازی کی تاریخ میں ایک معجزے کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، ایک ایسا لمحہ جب مہارت، حوصلہ اور قسمت نے مل کر سینکڑوں جانیں بچا لیں، اَزورز میں ایئر ٹرانزٹ کی پرواز 236 ایندھن ختم ہونے کے باوجود کیسے اُتری؟۔
24اگست 2001 کی رات بحرِ اوقیانوس کی وسعتوں پر ایک مسافر طیارہ خاموشی سے محو پرواز تھا، انجن بند ہو چکے تھے، ایندھن ختم ہو چکا تھا اور 300 سے زائد جانیں فضا میں معلق تھیں۔ یہ تھا ایئر ٹرانزٹ فلائٹ 236جسے بعد میں دنیا نے "اَزورز گلائیڈر” کے نام سے یاد رکھا۔
رپورٹ کے مطابق مسافر طیارے کی یہ پرواز کینیڈا کے شہر ٹورنٹو سے پرتگال کے دارالحکومت لزبن جا رہی تھی، تقریباً 3 گھنٹے 46 منٹ بعد دائیں انجن میں ایندھن کا رساؤ شروع ہوا مگر عملے کو ابتدا میں اس کا اندازہ نہ ہو سکا۔
انہیں شبہ تھا کہ شاید مسافر طیارے کے سینسر خراب ہیں۔ حقیقت یہ تھی کہ ایک غلط پرزہ لگنے کے باعث فیول لائن اور ہائیڈرولک لائن آپس میں رگڑ کھا رہی تھیں، جس سے چند ملی میٹر کے فاصلے پر موجود پائپ میں دراڑ پڑ گئی اور ایندھن تیزی سے بہنے لگا۔