اسامہ خادم: سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے ایرانی قونصل جنرل مہران مواحد فر سےملاقات کی۔
ذرائع کے مطابق ترکیہ کے قونصل جنرل مہمت ایمن سیمسک، صوبائی وزیر چودھری شافع حسین، وفاقی وزیر چودھری سالک حسین اور چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ منتہی اشرف بھی موجود تھے۔
ملاقات میں پاکستان، ایران اور ترکیہ کے باہمی تعلقات اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔ دونوں سفارت کاروں نے چودھری شجاعت حسین کی خیریت دریافت کی، جبکہ انہوں نے عالمی حالات پر گہری نظر رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔
اس موقع پر خطے کو جنگی صورتحال سے نکالنے کے لیے موثر سفارت کاری کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا گیا اور یہ بات سامنے آئی کہ ایران اور امریکہ میں کشیدگی خطے اور عالمی امن کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔
چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ عالمی امن کے لیے ایران اور امریکہ میں کشیدگی کا فوری خاتمہ ناگزیر ہے، جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، اور مذاکرات ہی مسائل کے حل کا راستہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگوں سے معیشتیں تباہ ہوتی ہیں اور عوام کے مسائل بڑھتے ہیں، اس لیے اقوام متحدہ کو جنگ رکوانے کے لیے اپنا فوری اور مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔