ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ملک کو درپیش مسائل کا حل سیاسی محاذ آرائی نہیں بلکہ نظام کی اصلاح میں ہے: وزیر داخلہ محسن نقوی

محسن نقوی نے تمام سیاسی جماعتوں سے اختلافات ایک طرف رکھ کر نظام کی بہتری کے لیے متحد ہونے کی اپیل کی، انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو نظام ٹھیک کرنے کی دعوت دیتا ہوں تاکہ اگلے الیکشن سے پہلے چیزیں ٹھیک ہو جائیں۔ 

ملک کو درپیش مسائل کا حل سیاسی محاذ آرائی نہیں بلکہ نظام کی اصلاح میں ہے: وزیر داخلہ محسن نقوی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ملک کو درپیش مسائل کا حل سیاسی محاذ آرائی نہیں بلکہ نظام کی اصلاح میں ہے، اس مقصد کے لیے تمام سیاسی جماعتوں، کاروباری برادری، نوجوانوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ موجودہ نظام کو درہم برہم نہیں کرنا چاہتے بلکہ اسے بہتر اور مؤثر بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے اختلافات ایک طرف رکھ کر نظام کی بہتری کے لیے متحد ہونے کی اپیل کی۔ محسن نقوی نے کہا کہ نوجوان صرف مالی امداد یا ٹیبلٹس نہیں چاہتے بلکہ وہ میرٹ، شفاف نظام، روزگار کے مواقع اور بنیادی سہولیات کے خواہاں ہیں۔  نوجوانوں کی آواز کو پارلیمنٹ، جامعات اور قومی سطح پر سنجیدگی سے سنا جانا چاہیے۔

 وزیر داخلہ نے کہا کہ کاروباری برادری ملکی معیشت میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے، لیکن جب تک اسے پالیسی سازی اور اصلاحات کا حصہ نہیں بنایا جائے گا، دیرپا نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کاروباری برادری متحد ہو جائے تو ملک میں بڑی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ خدارا تمام سیاسی جماعتیں اختلاف ایک طرف رکھ کر اس معاملے پر سب کو اکٹھا ہونا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ گھر بھی 30 سال بعد دوبارہ مرمت مانگتا ہے، اللہ نے اس ملک کو نوازا ہے۔ آخر میں وعدہ کر سکتا ہوں کہ جس طرح آپ لوگ چائیں گے آپ کو پوری اسپورٹ دوں گا آپ کے ساتھ باہر نکلوں گا یہ مواقع بار بار نہیں مل سکتا۔

محسن نقوی نے کہاکہ سہیل وڑائچ اور ان کے ساتھیوں کو اس پر بات کرنی ہو گی۔ یوتھ اس معاملے پر بہت فوکس ہے ہمیں انہیں سنا ہو گا۔ پارلیمنٹ میں یونیورسٹیوں میں اس معاملے پر بحث شروع کرنی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری کمیونٹی کو پتہ ہے 10 روپے سے 100 روپے کیسے بنایا جا سکتا ہے۔جب تک بزنس کمیونٹی کو اپنا حصہ نہیں بنایا جائے گا مسائل حل نہیں ہوں گے۔ صوبے آبادی کنٹرول نہیں کرتے بلکہ اپنے صوبوں کے مفاد اور پیسوں کیلیے آبادی کنٹرول نہیں کرتے۔ اگر گلی کا نظام خراب ہے اور ایک گلی دس دس دفعہ بنتی ہے ہم نے نظام ٹھیک نہیں کرنا گلی دس دس دفعہ بنانی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ اپنا گھر کیسے چلانا ہے ہمیں فیصلہ کرنا ہے ۔ ہم  نے صرف سیاست  کو نہیں دیکھنا، تمام سیاسی جماعتوں کو نظام ٹھیک کرنے کی دعوت دیتا ہوں تاکہ اگلے الیکشن سے پہلے چیزیں ٹھیک ہو جائیں۔ 

وزیرداخلہ نے کہا کہ بھارت میں 14 صوبے تھے جب بنا تھا اب 29 ہیں، ایک بندہ ملک کو عالمی سطح پر عزت دلوا رہا ہے۔ ہمیں اپنے اندرونی حالات ٹھیک کرنے ہوں گے۔ آپ کاروباری 28 ٹریلین بھی دیں گے پھر بھی کچھ نہیں ہو سکتا۔ آپ سب کاروباری اکھٹے ہو جائیں تو سب کچھ ہو سکتا ہے۔ انتظامی یونٹس کیلیے کام کرنا ہو گا۔کاروباری لوگوں کو اپنے لیے خود  کھڑا ہونا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو ایک ساتھ بیٹھنا ہو گا ورنہ جتنے مرضی سیمینار سمٹز کر لیں کچھ نہیں ہو پائے گا ۔ہم صرف فائر فائٹنگ کر رہے ہیں۔ قرضہ بڑھتا جا رہا ہے۔ ہم سب کو پتہ ہے ہم قرض لے لیں گے لیکن ٹھیک نہیں کریں گے۔کون سا گھر ہے جو لاکھ روپے مقروض ہو اور وہ گھر کا بجٹ بنائے پہلی تاریخ کو بنائے ۔ 

انہوں نے کہا کہ کاکڑوچ اگر آ گیا تو مشکل ہو جائے گا اس سےپہلے ان کو سہولیات اور مواقع دینا ہوں گی۔ اسلام آباد میں ایک ساتھ ہزاروں چیزیں چل رہی ہیں۔وفاقی یونٹس بنے ہوں گے نئی قیادت آنی ہو گی۔ 

وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا کہ آج بھی انصاف لینے کیلئے عام آدمی کو میلوں دور جانا پڑتا ہے ۔ آڈمینیسٹریٹو یونٹس کے مشن کو آگے لے کر جانا ہو گا۔ انہوں نے کہا میں سمجھتا ہوں کہ اس حالت تک پہنچنے میں سب ذمہ دار ہیں۔ ساڑھے 3 سال ہو گئے ہیں مجھے سیاست والے معاملے میں آئے ہوئے، دس سال بھی ایسا ہی چلتا رہے گا۔جس سسٹم میں ہم ہیں یہ تباہ ہو چکا ہے۔ وہ شخص جو 20 20 گھنٹے کام کرتے ہیں انہیں بھی پیغام دیتا ہوں سسٹم کو تبدیل کرنے کا۔

انہوں نے مزید کہاکہ میں سمجھتا ہوں اس نظام کو چلانے والے بھی یہیں بیٹھے ہیں سیاسی لوگوں کو فنڈنگ کرنے والے بھی یہیں بیٹھتے ہیں۔ جس دن آپ لوگوں نے فیصلہ کر لیا کہ نظام ٹھیک کرنا ہے یہ نظام ٹھیک ہو جائے گا۔ اس نظام میں سب چیزیں بری نہیں، عام آدمی کو حکومت سے تعلق اور سہولیات چائیے جو نہیں مل رہے۔