ویب ڈیسک: دنیا کے پہلے سیاہ فام فوجی پائلٹ سمجھے جانیوالے احمد علی چیلیکتن کے اہلِ خانہ نے ترکی کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی خدمات کو سرکاری سطح پر زیادہ نمایاں کیا جائے تاکہ نئی نسل انکی زندگی، جدوجہد اور فوجی کارناموں سے واقف ہو سکے۔ احمد علی چیلیکتن نے پہلی جنگِ عظیم اور ترکی کی جنگِ آزادی میں اہم کردار ادا کیا، لیکن انہیں وہ عالمی اور قومی شناخت نہیں مل سکی جس کے وہ مستحق ہیں۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق ترکی کے شہر ازمیر میں رہنے والے دنیا کے پہلے سیاہ فام فوجی پائلٹ سمجھے جانیوالے احمد علی چیلیکتن کے اہلِ خانہ نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی تاریخی خدمات کو سرکاری سطح پر زیادہ مؤثر انداز میں اجاگر کیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں اس عظیم شخصیت سے واقف ہو سکیں۔ خاندان کا کہنا ہے کہ احمد علی چیلیکتن نہ صرف ترکی بلکہ عالمی ہوا بازی کی تاریخ کا ایک اہم باب ہیں، تاہم انہیں آج بھی وہ شناخت حاصل نہیں ہو سکی جس کے وہ حقیقی معنوں میں مستحق ہیں۔
افریقی نژاد احمد علی چیلیکتن1883 میں ازمیر میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کی والدہ زنجیہ امینہ ہانم نائیجیریا سے تعلق رکھنے والے افریقی نژاد خاندان سے تھیں جبکہ والد علی بے بھی افرو ترک پس منظر رکھتے تھے۔ انہوں نے عثمانی بحریہ میں شمولیت اختیار کی اور بعد ازاں1914میں قائم ہونے والے بحری فضائی اسکول میں تربیت حاصل کی۔ انہیں1914.15 میں پائلٹس ونگز سے نوازا گیا، جس کی بنا پر متعدد مؤرخ انہیں دنیا کا پہلا سیاہ فام فوجی پائلٹ قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے پہلی جنگِ عظیم کے دوران عثمانی فضائیہ میں خدمات انجام دیں اور بعد میں ترکی کی جنگِ آزادی میں بھی حصہ لیا۔ جنگ کے بعد جمہوریہ ترکی کے قیام پر وہ نئی ترک فضائیہ میں شامل رہے اور مختلف ذمہ داریوں پر خدمات انجام دیتے ہوئے1949میں کرنل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ انہیں1964ء میں مصطفیٰ کمال اتاترک اور عصمت انونو کی جانب سے جنگِ آزادی میں بہادری پر ترکی کا تمغۂ آزادی بھی عطا کیا گیا۔

ترکی کی انادولو ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے احمد علی چیلیکتن کے خاندان نے کہا کہ ان کی زندگی صرف ترکی ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے باعثِ فخر ہے، لیکن افسوس کی بات ہے کہ انکا نام ابھی تک تعلیمی نصاب، عوامی یادگاروں اور بین الاقوامی تاریخ میں وہ مقام حاصل نہیں کر سکا جس کا وہ حق رکھتے ہیں۔ خاندان کے ایک فرد نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ مستقبل کی نسلیں انہیں جانیں۔ وہ صرف ہمارے خاندان کے فرد نہیں بلکہ پوری انسانیت کیلئے ایک تاریخی شخصیت ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ان کی زندگی پر مزید تحقیق ہو، کتابیں لکھی جائیں، دستاویزی فلمیں بنائی جائیں اور انکا نام زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچے۔ خاندان کے مطابق احمد علی چیلیکتن کی کامیابی اس لئےبھی غیر معمولی ہے کہ انہوں نے ایسے دور میں فوجی پائلٹ بننے کا اعزاز حاصل کیا جب دنیا میں سیاہ فام افراد کو شدید نسلی امتیاز کا سامنا تھا۔ اس کے باوجود انہوں نے اپنی صلاحیت، پیشہ ورانہ مہارت اور عسکری خدمات سے تاریخ میں ایک منفرد مقام بنایا۔
اس حوالے سے تاریخی ریکارڈ کے مطابق احمد علی چیلیکتن کا نام فرانس سے تعلق رکھنے والے اکثر یوجین جیک بولارڈ اور برطانیہ کے ولیم رابنسن کلارک سمیت دیگر ابتدائی سیاہ فام فوجی ہوا بازوں کے ساتھ لیا جاتا ہے، تاہم متعدد محققین کا کہنا ہے کہ احمد علی نے ان سب سے پہلے فوجی پائلٹ کی حیثیت سے یہ اعزاز حاصل کیا تھا، اسی لئے انہیں دنیا کا پہلا سیاہ فام فوجی پائلٹ تصور کیا جاتا ہے۔
احمد علی چیلیکتن کے اہلِ خانہ نے مطالبہ کیا ہے کہ ترکی میں ان کے نام پر مزید یادگاریں قائم کی جائیں، تعلیمی اداروں میں ان کی خدمات کو نصاب کا حصہ بنایا جائے اور بین الاقوامی سطح پر بھی ان کی شخصیت کو متعارف کرانے کیلئے اقدامات کیے جائیں تاکہ نوجوان نسل کو یہ معلوم ہو سکے کہ افریقی نژاد ایک ترک فوجی افسر نے ایک صدی قبل عالمی ہوا بازی کی تاریخ میں کس قدر نمایاں کردار ادا کیا تھا۔
احمد علی چیلیکتن کا انتقال 24جون1969 کو ازمیر میں ہوا، لیکن انکی عسکری خدمات اور ہوا بازی کے میدان میں ان کا تاریخی کردار آج بھی دنیا بھر کے مؤرخین اور ہوا بازی کے ماہرین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔