ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پمز انکوائری کی ابتدائی رپورٹ کی مکمل تفصیلات جاری 

 پمز انکوائری کی ابتدائی رپورٹ کی مکمل تفصیلات جاری 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42:  پمز انکوائری کی ابتدائی رپورٹ کی مکمل تفصیلات جاری  کردی گئیں ۔ تفصیلات 11 صفحات پر مشتمل دستاویز کی صورت میں جاری کی گئیں 

دستاویز  کے مطابق  وفاقی حکومت نے سانحہ پمز کی ابتدائی رپورٹ جاری کی ۔ وزیراعظم شہباز شریف نے رپورٹ جاری کرنے کی ہدایت کی تھی۔واقعے کے وقت سپروائزری اسٹاف موقع پر موجود نہیں تھا، پمز میں ہنگامی صورتِ حال سے متعلق کوئی ایس او پیز یا ٹریننگ موجود نہیں۔وزیراعظم نے انکوائری کمیٹی کی عبوری رپورٹ کی سفارشات منظور کر لیں۔پمز کے 6 افسران اور سی ڈی اے کے 2 افسران کو معطل کرنے کی ہدایت  کی ۔ معطل افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کر دی گئی۔ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر کو معطل کرنے کی ہدایت کی ۔ 

ایچ او ڈی نیونیٹولوجی ڈاکٹر سعدیہ ریاض اور سینئر رجسٹرار ڈاکٹر نغم بھی معطل ،جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایم سی ایچ ڈاکٹر مطاہر شاہ کے خلاف بھی محکمانہ کارروائی کا حکم دیا ۔ 

جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر نان میڈیکل پمز چودھری وارث علی رضا معطل ہوں گے ۔ڈائریکٹر ایم سی ایچ ڈاکٹر نوشیلا امجد کے خلاف بھی کارروائی کی ہدایت کی اورڈی جی سی ای ایس، سی ڈی اے ڈاکٹر عبدالرحمٰن کی بھی معطلی رپورٹ کا حصہ ہیں ۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی محمد عثمان کو معطل کرکے محکمانہ کارروائی کی ہدایت کی ۔ 

پمز نرسری آتشزدگی، ذمہ دار افراد کے خلاف فوجداری کارروائی بھی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ۔ انکوائری رپورٹ میں آگ لگنے کی وجہ کے تعین کے لیے مزید فرانزک اور تکنیکی تحقیقات کا فیصلہ  کیا ۔ پمز میں ایمرجنسی فائر سیفٹی، انخلا اور اطلاع رسانی کے نظام میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی ۔ فائر ایگزٹ بند یا رکاوٹوں کا شکار ہونے سے متعلق سی ای ایس کی رپورٹ7 کی مزید تصدیق کی جائے گی۔نرسری فائر، ایمرجنسی سروسز کو اطلاع دینے میں مبینہ تاخیر کی بھی تحقیقات جاری رکھنے کی ہدایت  کی ۔ پمز میں جولائی کے فائر واقعے کے بعد بھی فائر سیفٹی کی خامیاں دور نہ کیے جانے پر سوالات اٹھ گئے۔جولائی کے واقعے میں فائر الارم، اسموک ڈیٹیکشن اور ایمرجنسی ڈرلز سے متعلق خامیوں کی نشاندہی ہوئی تھی۔