سفیر رضا: آزاد جموں و کشمیر حکومت کے سیکرٹری اطلاعات محمد راشد حنیف اور ترجمان آزاد کشمیر پولیس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راولاکوٹ سمیت مختلف علاقوں میں جاری صورتحال پر مؤقف پیش کیا ہے۔
سیکرٹری اطلاعات محمد راشد حنیف نےکہا کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج میں مسلح عناصر شامل ہیں اور بعض عناصر پرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام غیر مصدقہ اطلاعات اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں پر یقین نہ کریں اور صرف سرکاری و مصدقہ ذرائع سے جاری معلومات پر اعتماد کریں۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کے دوران خواتین اور بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر پرانی اور مبینہ جعلی ویڈیوز کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی رٹ ہر صورت برقرار رکھی جائے گی اور کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈی آئی جی پولیس آزاد کشمیر نے میڈیا کو بتایا کہ بعض مسلح عناصر کے پاس جدید ہتھیار موجود ہونے کی اطلاعات ہیں، جن میں ایم فور رائفلیں، ایس ایم جیز اور دیگر اسلحہ شامل ہےاُنہوں نے بتایا کہ بعض عناصر سنائپرز بھی استعمال کر رہے ہیں۔
ترجمان پولیس کے مطابق مسلح عناصر کی فائرنگ سے ایک رینجرز اہلکار شہید جبکہ ایک افسر سمیت پانچ اہلکار زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا اور کارروائی صرف دفاعی ضرورت کے تحت کی۔
ڈی آئی جی پولیس نے بتایا کہ راولاکوٹ سے ایک مسلح شخص کو گرفتار کیا گیا ہے، جس کے قبضے سے ہتھیار برآمد ہوئے۔ ان کے مطابق گرفتار شخص سے مزید تفتیش جاری ہے جبکہ مسلح عناصر کے سہولت کاروں اور مالی معاونت کرنے والوں سے متعلق تحقیقات بھی کی جا رہی ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے یا کسی علاقے میں امن و امان خراب کرنے کی کوشش کرنے والوں سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔