سٹی42: کینیڈا میں آج کینیڈین جمہوریت کی ہسٹری کے اہم ترین پارلیمانی الیکشن ہو رہے ہیں جن میں پڑوسی سپر پاور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نفرت ووٹرز پر اثر انداز ہونے والا اہم فیکٹر بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ ٹورنٹو میں اس وقت صبح ساڑھے آٹھ بجے ہیں اور الیکشن ڈے کی سرگرمیوں کا آغاز ہو چکا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کینیڈا کے ہر خاص و عام کو غصہ دلا دینے والے اقدامات سے پہلے کینیڈا کے اس الیکشن کے متعلق اندازے کچھ اور تھے، جب ٹرمپ نے صدر منتخب ہونے کے بعد اچانک کینیڈا کو امیرکہ میں ضم کر کے "51 ویں سٹیٹ" بنانے کا نعرہ لگایا اور اس خلائی آفر پر منہ کی کھانے کے بعد کینیڈا پر بیٹھے بٹھائے بھاری ٹیرف تھوپ دیئے تو کینیڈا کے اندر کی سیاست کچھ ہی ہفتوں میں بدل گئی۔
آج الیکشن کا جو بھی نتیجہ نکلے کا اس کا کینیڈا کے ساتھ امریکہ کے صدر ٹرمپ کے ذاتی مستقبل پر گہرا اور دور رس اثر پڑے گا۔ آج کینیڈین جسے پرائم منسٹر بنائیں گے ٹرمپ کو اس کا اپنے اقتدار کے باقی تمام دنوں میں سامنا کرنا ہے۔
عوام کے اپنے سیاستدانوں اور سیاسی پارٹیوں کے متعلق پہلے موجود رجحان بدل گئے؛ کیا کچھ کس قدر بدلا، اس کا پتہ آج ہو رہے الیکشن کے نتائج سامنے آنے پر ہی ہو گا، تاہم مبصرین کی سٹرونگ رائے ہی کہ چیزیں بدل چکی ہیں۔
کینیڈا میں گزشتہ کئی سال سے لبرلز کی حکومت ہے جن ک یقیادت پہلے جسٹن ٹروڈو کر رہے تھے، ان کی بعض پالیسیوں سے عووام کو سخت اختلافات ہوئے، کنزرویٹو اس سال کے آغاز میں کسی بھی مقابلے کو بھاری اکثریت سے جیتنے کے لیے یقینی دکھائی دیتے تھے، یہاں تک کہ کینیڈا کو "51 ویں ریاست" بنانے کے بارے میں ٹرمپ کے ٹیرف اور باربس نے ملک کی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا اور مارک کارنی کی لبرل پارٹی میں نئی جان ڈال دی۔

حتمی رائے شماری سے پتہ چلتا ہے کہ لبرلز قدرے آگے ہیں، حالانکہ گزشتہ ایک ہفتے میں دوڑ سخت ہو گئی ہے اور کنزرویٹو رہنما پیئر پوئیلیور کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی جیت سکتی ہے۔
36 روزہ انتخابی مہم کا اختتام الیکشن پر اثر انداز ہونے والے ایک نہایت سنگین سانحہ پر ہوا۔ اور سب پارٹیوں کو الیکشن کیمپین کے آخری لمحات میں اس سانحہ کو اپنے اپنے پرسپیکٹِو میں ڈسکس کرنا پڑا۔ یہ سانحہ تارکین وطن سے بھرے جنوبی شہر وینکوور مین فلپائنی تارکین وطن کے ایل پر ہجوم میلے میں کار سے لوگوں کے کچلے جانے کا واقعہ تھا جس میں 11 انسان موت کے منہ میں چلے گئے۔
لبرل اور کنزرویٹو پارٹیاں امیگرنٹس کے متعلق نمایاں اختلاف رائے رکھتی ہیں؛ وینکوور کا واقعہ ووٹرز کے ذہنوں پر الگ الگ اثر ڈالے گا جس کا انحصار ووٹرز کی امیگرنٹس کے متعلق پہلے سے موجود رائے پر زیادہ ہو گا۔کینیڈین سیاستدانوں نے بہرحال الیکشن کیمپین کا اختتام وینکوور میں ہفتہ کی شام کار سے ٹکرانے پر ردعمل سے ہی کیا۔
یہ واقعہ بھی دراصل ٹرمپ کے کینیڈین عوام کے ذہنوں پر اثرات سے ہی جڑا ہوا ہے، امریکہ مین ٹرمپ امیگرنٹس کے متعلق جیسی متشدد پالیسی لے کر چل رہے ہیں اس کا اظہار دو روز پہلے ایک جج کی ان کی عدالت کے اندر سے گرفتاری سے ہوا، اس جج پر صرف یہ الزام لگایا گیا کہ ان کی عدالت سے ایک مبینہ غیر ملکی امیگرنٹ گرفتاری سے بچ کر فرار ہوا۔
وینکوور میں امیگرنٹس پر کار چڑھانے کے سانحہ کے بعد کمیونٹی صدمے میں ہے۔
وینکوور کار ریمنگ پر پرائم منسٹر کا مؤقف
لبرل وزیر اعظم کارنی نے حوینکوور مین کارر ریمنگ ٹریجیڈی کے بعد قوم سے خطاب کرنا ضروری سمجھا۔ قوم سے یہ اَن شیڈولڈ ہنگامی خطاب کرنے کے لیےپرائم منسٹر کارنی نے اتوار کی صبح (پاکستانی وقت کے مطابق اتوار کی شام) ہیملٹن میں ایک سٹاپ منسوخ کر دیا۔
انہوں نے، اسی دوران، ٹورنٹو کے مضافاتی علاقے مسیسوگا میں ایک مہم کا اسٹاپ شامل کیا، تاکہ وہاں فلپائنی کمیونٹی کے ارکان سے بات کر کے انہیں تسلی دے سکیں۔

انتخابی مہم کے آخری دن کے آخر میں، لبرل پرائم منسٹر کارنی نے تین صوبوں - ساسکیچیوان، البرٹا اور برٹش کولمبیا میں - مغربی کینیڈا میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے ایک حتمی کوشش کی۔ ان علاقوں میں اندازوں کے مطابق اب تک کنزرویٹو پارٹی کو زیادہ حمایت حاصل ہے۔
ٹرمپ کے امریکہ کے شمالی پڑوسی پر 25% محصولات عائد کرنے کے فیصلے اور کینیڈا کو "51 ویں ریاست" بنا کر امیرکہ میں ضم کرنے کی ان کی بار بار دھمکیوں نے شدید غصے کے ساتھ ساتھ کینیڈین قوم پرستی کے جذبات کو بھڑکا دیا۔
اس غصے نے ہاکی کے شائقین کو کھیلوں سے پہلے امریکی قومی ترانے کا تمسخر اڑانے کی طرف دھکیلا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ کس طرح اچانک کئی دہائیوں سے مستحکم US-کینیڈا تعلقات متزلزل ہو چکے ہیں۔
امریکی صدر انتخابی مہم پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے آئے، بہت سے لوگ اس مقابلے کو ایک ریفرنڈم کے طور پر دیکھ رہے ہیں کہ کینیڈا کو وائٹ ہاؤس میں اپنی دوسری مدت کے لیے نئے آدمی سے کیسے رجوع کرنا چاہیے۔ کینیڈا کا نیشنلزم عوام کو پرائم منسٹر ہاؤس میں ٹرمپ کو سٹرونگ چیلنج کرنے کے اہل سیاستدان کو لانے کے لئے ابھار رہا ہے۔
جنوری کی بیس تاریخ سے پہلے زیادہ مقبول سمجھے جانے والے کنزرویٹوز کے لئے صدر ٹرمپ کے اینٹی کینیڈا نوشن سے خود کو الگ کرنا ایک دشوار مرحلہ تھا، ان کی بیشتر پالیسیاں ٹرمپ سے ملتی جلتی رہی ہیں، ٹرمپ کی طرح ان کی آڈئینس بھی اینٹی لبرل نوشن کے زیر اثر رہی ہے لیکن ٹرمپ کی کینیڈٓ مین شدید مخالفت نے کنزرویٹوز کو جلدی میں اپنی پالیسیوں کی ری اورئینٹیشن پر مجبور کیا، ان کے نئے نیریٹِو کو ان کے ووٹرز کس طرح لیتے ہیں، اس کا اظہار آج شب تک ہو جائے گا۔

انتخابی مہم کے دوران، پرائم منسٹر ہاؤس میں پانچ سال رہنے کے لبرل امیدوار 60 سالہ کارنی نے اکثر صدر ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا کی بقا کو لاحق خطرے کا مقابلہ کرنے کی ضرورت کے بارے میں بات کی، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ "ہمیں توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ امریکہ ہمارا مالک بن سکے۔"
انہوں نے اپنے آپ کو موجودہ بحران کے دوران ملک کی قیادت کرنے کے لیے بہترین چوائس کی حیثیت سے پیش کیا۔ کارنی کو حال ہی میں جسٹن ٹروڈو کے سٹیپ ڈاؤن کے بعد پرائم منسٹر ہاؤس میں آنے کا موقع ملا، ان پر ٹروڈو کی ناکامیوں کا بوجھ زیادہ نہیں ڈالا جاتا۔ الیکشن کیمپین میں کارنی نے عظیم کساد بازاری کے دوران کینیڈا کے لیے اور بریکسٹ کے دوران بینک آف انگلینڈ میں برطانیہ کے لیے سابق مرکزی بینکر کے طور پر اپنے تجربے کی پروجیکشن پر انحصار کیا۔
اتوار کو سسکاٹون میں ایک مہم کے سٹاپ پر، کارنی نے کہا کہ کینیڈا کو برطانیہ اور یورپی یونین جیسے دیگر "قابل اعتماد تجارتی شراکت داروں" کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط بنانا چاہیے۔ اس سے پہلے انتخابات میں، انہوں نے کہا کہ کینیڈا کا امریکہ کے ساتھ کئی دہائیوں سے پرانا رشتہ "ختم" ہو چکا ہے۔

