پولیس کی اپنی ہی رپورٹ نے محکمے کا کچا چھٹا کھول دیا

پولیس کی اپنی ہی رپورٹ نے محکمے کا کچا چھٹا کھول دیا

( علی ساہی ) لاہور پولیس شہریوں کو تحفظ دینے میں بری طرح ناکام ہوگئی، جرائم میں خطرناک حد تک اضافے کے باوجود محکمہ پولیس اور حکومت نے قتل و غارت گری، ڈکیتی و چوری اور سنگین جرائم کی طرف سے آنکھیں بند کررکھی ہیں۔

شہر میں امن و امان کی خراب صورتحال، قتل و غارت گری، اغوا برائے تاوان، خواتین و بچوں کے ساتھ زیادتی و اغوا، ڈکیتی و چوری کی بڑھتی ہوئی وارداتوں اور سرعام فائرنگ جیسے جرائم میں خطرناک حد تک اضافے نے امن پسند شہریوں، دکانداروں، تاجروں اور صنعتکاروں کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں جبکہ سیف سٹی کے کیمرے، ڈولفن، پولیس رسپانس یونٹ سمیت درجنوں دیگر فورسز کی موجودگی بھی بے سود ہے۔

پولیس کے اپنے ہی اعداد وشمار نے کرائم میں خطرناک حد تک اضافے کی نشاندہی کر دی۔ آئی جی پنجاب کی ہدایات کے باوجود پولیس اشتہاریوں کو گرفتارکرنے میں ناکام نظر آرہی ہے۔ اعداد وشمار کے مطابق شہر میں 19 ہزار 444 اشتہاری موجود ہیں جبکہ پولیس ملزمان کو نکیل نہ ڈال سکی۔

رپورٹ کے مطابق 665 اشتہاری قتل، اقدام قتل اور ڈکیتی سمیت دیگر سنگین جرائم میں ملوث ہیں۔ ان میں سے 19 اشتہاریوں کے ریڈ وارنٹ بھی جاری ہوچکے ہیں جبکہ 44 خطرناک اشتہاری پولیس کو چکمہ دیکر بیرون ملک فرار ہوچکے ہیں۔

گزشتہ سال کی نسبت اشتہاریوں کی تعداد میں اضافہ اور گرفتاریوں میں کمی آئی ہے جبکہ رواں سال 350 اشتہاریوں کا اضافہ ہوا ہے۔