ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

مصطفیٰ عامر قتل کیس: ملزم ارمغان کا ریمانڈ نہ دینے والے منتظم جج سے اختیارات واپس لینے کا حکم

مصطفیٰ عامر قتل کیس: ملزم ارمغان کا ریمانڈ نہ دینے والے منتظم جج سے اختیارات واپس لینے کا حکم
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

احسن عباسی: سندھ ہائی کورٹ نے مصطفیٰ عامر قتل کیس کے ملزم ارمغان کا ریمانڈ نہ دینے والے منتظم جج سے انتظامی اختیارات واپس لے لیے۔

 سندھ ہائی کورٹ میں پراسیکیوشن کی اے ٹی سی کے منتظم جج کے خلاف 4 درخواستوں پر سماعت ہوئی،جسٹس ظفر راجپوت کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔

 درخواست میں پراسیکیوشن نے مؤقف اپنایا کہ اے ٹی سی کے منتظم جج نے ملزم ارمغان کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کی۔

 قائم مقام پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ عدالت نے ریکارڈ ٹمپرنگ کے الزامات کے بعد جج سے اختیارات واپس لینے کی سفارش کی ہے۔

یاد رہے کہ مصطفیٰ قتل کیس میں تحقیقات کے دوران اہم انکشافات سامنے آئے ہیں، جن میں پولیس کی غفلت اور مبینہ سہولتکاری کے شواہد شامل ہیں۔ ڈیفنس پولیس اور 15 مددگار کی سنگین غفلت کی تحقیقات جاری ہیں۔

تفصیلات کے مطابق جنسی زیادتی اور جان لیوا تشدد کا شکار خاتون زوما کے ساتھ پولیس کے غیر ذمہ دارانہ سلوک کا انکشاف ہوا ہے۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق زوما 31 دسمبر کو ارمغان کے ساتھ تھی اور چند روز بعد ارمغان نے اُسے فون کر کے اپنے گھر بلایا۔ 31 جنوری کے حوالے سے تنازعے پر ارمغان نے زوما کو انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنایا، جس دوران وہ برہنہ ہو کر مارا گیا اور ویڈیوز بھی بنائی گئیں۔

تفتیشی ذرائع نے مزید بتایا کہ ارمغان کے تشدد کے دوران شیراز بھی موجود تھا۔ زوما کی حالت غیر ہونے پر ارمغان نے ایک پولیس افسر کو فون کیا اور کہا کہ زوما کو لے کر جاؤ تاہم پولیس افسر نے انکار کیا تو ارمغان نے آن لائن کیب منگوائی اور زوما کو نیشنل میڈیکل سینٹر جانے کا کہا اور ساتھ ہی شیراز کو پیچھے بھیجا تاکہ وہ دیکھ سکے کہ زوما پولیس کے پاس نہ جائے۔

مزید تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ارمغان کےسہولتکاری میں ملوث شخص ایک سابق پولیس افسر نکلا، جو گذری تھانے میں تعینات تھا۔تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے جبکہ مزید تفصیلات منظر عام پر آنے کا امکان ہے۔