سٹی42: افغانستان کی طالبان رجیم نے پاکستانی علاقہ چترال سے نکل کر افغانستان سے گزرتے ہوئے پاکستان واپس آنے والے دریا ، دریائے چترال پر جلد از جلد ڈیم کی تعمیر شروع کرنے کا حکم دے دیا۔
افغان میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق طالبان ریجیم کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے کہا ہے کہ ڈیم کیلئے ملکی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کیے جائیں اور غیر ملکی کمپنیوں کا انتظار نہ کیا جائے۔
طالبان کیےپانی اور توانائی کے وزیر ملا عبداللطیف منصور نے کہا کہ افغانوں کو "اپنے پانی" کا انتظام خود کرنے کا حق ہے اور یہ تاریخی فیصلہ قومی ذخائر کو سنبھالنے کے لیے افغانوں کے مضبوط ارادے کو ظاہر کرتا ہے۔
خیال رہے کہ دریائے چترال پاکستان کے افغانستان سے ملحق علاقہ چترال میں بنتا ہے اور تقریباً 482 کلومیٹر کا سفر طے کرنے کے بعد دریائے کابل میں شامل ہو کر واپس پاکستان آتا ہے۔
گزشتہ دنوں بھی ملاعبداللطیف منصور نے دریائے کنڑ پر ڈیم بنانے کو طالبان حکومت کی اہم ترجیحات میں سے ایک قرار دیا تھا۔
دریائے چترال کا آغاز اور جغرافیہ
دریائے چترال شمالی پاکستان اور مشرقی افغانستان میں 480 کلومیٹر (300 میل) لمبا دریا ہے۔ یہ پاکستانی علاقہ میں باقاعدہ دریا کی شکل اختیار کرتا ہے اور طویل فاصلہ طے کرنے کے بعد اروندو کے مقام سے سرحد پار افغانستان میں چلا جاتا ہے۔

دریائے چترال کا آغاز
دریائے چترال کا منبع پاکستان کے انتہائی شمالی علاقہ گلگت بلتستان میں واقع چیانتر گلیشیئر ہے۔ گلگت بلتستان اور چترال کی سرحد پر واقع اس بہت بڑے گلیشئیر سے نکل کر یہ دریا خیبر پختونخوا کے انتہائی شمالی اور بلند ترین ضلع چترال میں چلتا ہے۔
دریائے چترال پاکستان میں ضلع چترال میں ارندو کے مقام پر پہاڑی ڈھلوانوں سے افغانستان میں داخل ہوتا ہے جہاں افغانستان کا صوبہ کنڑ ہے۔ وہاں دریائے چترال کو دریائے کنڑ بھی کہا جاتا ہے۔ دریائے چترال آگے چل کر افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں دریائے کابل میں ضم ہو جاتا ہے۔اس دریائی نظام کو ہندوکش پہاڑوں کے پاکستانی گلیشیئرز اور برف پگھلنے سے سارا سال پانی ملتا ہے۔ دریائے چترال دریائے کابل کی ایک بڑی معاون ندی کے طور پر کام کرتا ہے اور دریائے کابل دریائے سندھ کی ایک معاون ندی ہے۔
دریائے چترال پاکستان کے ضلع چترال کے انتہائی شمال کے برفانی پہاڑوں میں سے نکلتا ہے، جہاں اسے چترال دریا کہا جاتا ہے۔ افغانستان والے اسے دریائے کنڑ کہتے ہیں لیکن اس دریا میں سالانہ اخراج کا تقریباً 60% سے 70% پانی چترال سے نکلتا ہے۔ مستوج کے قصبے تک بہنے کے دوران، اسے دریائے مستوج کہا جاتا ہے، یہاں تک کہ دریائے لوٹکوہ سے اس کا سنگم ہوتا ہے۔
پھر دریائے چترال کا رخ جنوب کی طرف افغانستان کی بالائی کنڑ وادی کی طرف بدل جاتا ہے۔ اسد آباد میں سنگم پر، یہ دریائے پیچ کو خود میں شامل کر لیتا ہے اور آخر میں افغانستان کے شہر جلال آباد کے مشرق میں دریائے کابل میں گر جاتا ہے۔ مشترکہ دریا کا نام کابل ہی رہتا ہے اور یہ پاکستان میں مشرق کی طرف بہتے ہوئے اٹک شہر میں دریائے سندھ میں شامل ہو جاتا ہے۔