ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

برڈ فلو کا انسانوں پر حملہ، تشویشناک صورتحال پیداہوگئی

Birdflu N5H5, New Strain of N5H5 virus, Human infected by N5H5, city42
کیپشن: امریکہ میں دو سال کے دوران برڈ فلو این فائیو ایچ فائیو انسان کو لگنے کے 71 واقعات ہوئے، اب ایسا وائرس انسان کو لگا ہے جو پہلے والے وائرس سے مختلف ہے
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: انتہائی تیز رفتار سے ملکوں کی سرحدوں کو روند کر ہر جگہ پہنچ جانے اور انتہائی تیز رفتار سے ایک سے دوسرے میں منتقل ہو جانے والے وائرس کے متعلق انسانوں کی خطرناک غلط فہمی دور ہو گئی۔ یہ خطرناک وائرس پرندوں سے انسانوں میں منتقل ہو کر انسانوں کو بیمار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس نے یہ خطرناک کام کر ڈالا ہے۔

برڈ فلو: ایچ 5 این 5 نے پہلی بار انسان پر حملہ کیا  ہے اور "برڈ فلو" کے نام سے مشہور جان لیوا فلو کا شکار ہونے والے مریض کی حالت تشویشناک ہے۔ برڈ فلو کے بارے میں یہ حقیقت ہے کہ اب تک اسے ملکوں کی سرحدین عبور کر کے اندر پہنچ جانے سے روکنے کا کوئی طریقہ دریافت نہیں ہوا، اس کے علاج میں بے تحاشا دقتیں ہوتی ہیں اور عام طور پر ایچ  فائیو این فائیو اور اس کے قبیل کے دوسرے وائرس کا شکار ہونے والے پرندوں کو مار کر "محفوظ طریقے سے ڈسپوز آف" کر دیا جاتا ہے، جن پندوں مین برڈ فلو آنے کا خدشہ ہو ان کو بھی مار دیا جاتا ہے تاکہ یہ  خطرناک جان لیوا مرض مزید نہ پھیلے۔

عام طور پر یہ تصور کیا جاتا رہا ہے کہ برڈ فلو صرف پرندوں کو متاثر کرتا ہے اور انسانوں کو یہ وائرس نقصان نہیں پہنچاتا، اب یہ خام خیالی اس وقت ٹوٹ گئی جب کم از کم ایک انسان کو شدید فلو کی حالت مین ہسپتال لے جایا گیا جہاں ٹیسٹ سے پتہ چلا کہ اسے تو برڈ فلو یعنی ایچ فائیو این فائیو وائرس لاحق ہے۔

برڈ فلو کا پہلا انسان مریض امریکہ میں دریافت ہوا ہے۔ اس دریافت نے دنیا بھر میں ہیلتھ کئیر کمیونٹی مین تشویش کی لہر دوڑا دی ہے کیونکہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ برڈ فلو اب تک کسی کے کنٹرول میں نہیں۔

یہ جان لیوا وائرس  خانہ بدوش پرندوں کے ساتھ سفر کرتا ہے  اور ملکوں کی سرحدوں کو اڑتے ہوئے پرندوں کے ساتھ عبور کرتا ہوا ہر جگہ گھس جاتا ہے، مقامی پرندوں کو لگ جاتا ہے اور پھیل کر انسانوں کے پالے ہوئے پالتوں پرندوں  اور فارمز میں ہالی جانے والی مرغیوں میں پہنچ جاتا ہے  جس سے ہر سال لاکھوں پرندوں کی ہلاکت ہوتی ہے اور لاکھوں پرندوں کو انسان اپنے ہاتھ سے مار دیتے ہیں تاکہ ان مین آنے والا وائرس آگے نہ پھیل سکے۔

پاکستان جیسے ملکوں میں تو یہاں تک ہوتا ہے کہ برڈ فلو پھیلنے کے بعد مرغی خانوں میں لاکھوں مرغیاں تلف کرنے کی بجائے ذبح کر کے مقامی مارکیٹوں میں سپلائی کیا جاتی رہیں، مرغی کا گوشت انتہائی سستا ہو گیا اور لوگ مزے سے یہ سستا گوشت خرید کر کھاتے رہے اس یقین کے ساتھ کہ اگر اس گوشت کے ساتھ وائرس بھی ہے تو یہ وائرس تو انسانوں کو لگتا ہی نہیں۔ اب یہ یقین ٹوٹ گیا ہے۔طبی ماہرین تصدیق کر رہے ہیں کہ یہ جان لیوا وائرس انسانوں کو لگ چکا ہے۔

امریکہ میں دو سال کے دوران برڈ فلو این فائیو ایچ فائیو انسان کو لگنے کے  71 واقعات ہوئے، اب ایسا وائرس انسان کو لگا ہے جو پہلے والے وائرس سے مختلف ہے ۔

برڈ فلو  کے نئے سٹرین سے متاثرہ مریض کی حالت سنگین

اب یہ  لرزہ خیز انکشاف ہوا ہے کہ پہلی بار ایک انسان میں ایسا برڈ فلو وائرس ملا ہے، جو اب تک صرف جانوروں میں پایا جاتا تھا۔ اس نایاب ایچ 5 این 5 ایوین انفلوئنزا نے ایک بزرگ شخص کو سنگین طور سے بیمار کر دیا ہے۔ حالانکہ ہیلتھ ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ فی الحال عام لوگوں کے لیے جوکھم انتہائی کم ہے، لیکن معاملہ ماہرین کی توجہ اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔
واشنگٹن اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ آف ہیلتھ کے مطابق گریز ہاربر کاؤنٹی میں رہنے والے ایک بزرگ شخص کو شروع میں تیز بخار، کنفیوژن اور سانس لینے میں مشکلات ہوئیں۔ جب ان کی جانچ کی گئی تو پتہ چلا کہ وہ ایچ 5 این 5 برڈ فلو سے متاثر ہیں۔

امریکہ میں گزشتہ سال سے اب تک برڈ فلو این فائیو ایچ فائیو سے متاثر مریضوں کی تعداد  71 ہے لیکن اب سامنے آنے والے مریض میں دیکھا جا رہا وائرس ایک ایسا سٹرین  (وائرس کی معمولی  بدلی ہوئی شکل) ہے جو پہلے کبھی کسی انسان میں نہیں ملا۔ مریض کی حالت سنگین بتائی جا رہی ہے اور وہ سپتال میں داخل ہیں۔

 امریکہ میں متاثرہ مریض کی حالت سنگین ہے۔ اس کا علاج کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن مریض کی حالت اب تک سنبھلنے کی بجائے بگڑ رہی ہے۔

کیونکہ یہ ایک نیا مسئلہ ہے اس لئے مریض کا علاج کرنے والے ماہر ڈاکتر غیر معمولی احتیاط کے ساتھ دوائیں آزما رہے ہیں۔

برڈ فلو انسانوں میں کیسے آیا

طبی ماہرین کو یہ بڑا سوال درپیش ہے کہ  ایچ 5 این 5 ایوین انفلوئنزا انسان تک پہنچا کیسے؟ متاثرہ شخص کے گھر پر پیچھے کی طرف مرغیوں اور دیگر گھریلو پرندوں کا مشترکہ جھُنڈ تھا۔ کچھ دنوں پہلے  2 پرندوں کی موت بھی ہوئی تھی۔
  گھر کی پراپرٹی ایسی تھی کہ وہاں جنگلی پرندے بھی آسان سے پہنچ سکتے تھے۔  عام طور پر دنیا میں کہیں بھی گھروں کو اڑتے ہوئے پرندوں کی پہنچ سے دور رکھنے کے لئے چاروں طرف جالی سے کور نہیں کیا جاتا۔ ہیلتھ ایجنسیوں کا اندازہ ہے کہ مریض تک تو وائرس ان کے گھر پر موجود پرندوں سے آیا اور مریض بن جانے والے انسان کے گھر کے پرندوں اور مرغیوں میں آنے والا این فائیو ایچ فائیو  وائرس وہاں تک پہنچانے والا پرندہ  آس پاس آنے والے جنگلی پرندوں میں موجود تھا۔

برڈ فلو مریض انسان سے کسی دوسرے انسان کو منتقل نہیں ہوا
 اب تک یہ گمان ہے  کہ متاثرہ شخص سے کسی دیگر شخص میں برڈ فلو پھیلنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔ سی ڈی سی اور واشنگٹن ہیلتھ ڈپارٹمنٹ نے کہا ہے کہ عوامی جوکھم بہت کم ہے، حالانکہ ماہرین یہ بھی مانتے ہیں کہ وائرس کا جنیٹک بدلاؤ حیرت انگیز ہو سکتا ہے، اس لیے معاملوں پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ جینیٹک بدلاؤ کا آسان معنی یہ ہے کہ یہ وائرس انسان میں آنے کے بعد اپنی ساخت میں ایسی تبدیلیاں کر لے کہ یہ دوسرے انسانوں تک زیادہ آسانی سے منتقل ہو جائے اور یہ بھی کہ یہ متاثرہ انسان کے جسم میں پرندوں کے جسم میں اپنی موجودگی سے مختلف رویہ اختیار کرے جو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

برڈ فلو اب تک ہر جگہ موجود ہے

 تشویش کی بات یہ ہے کہ امریکہ، ایشیا، جنوبی ایشیا اور دوسرے کئی خطوں میں ایچ 5 این 1 وائرس کا حملہ عام ہے۔

یہ 2022 سے امریکہ میں گشت کر رہا ہے اور اب تک جنگلی پرندوں، گھریلو مرغیوں، دودھ دینے والی گایوں اور کچھ انسانوں میں بھی پایا جا چکا ہے۔ یہ سٹرین ایچ 5 این 5 سے کچھ مختلف ہے۔ دونوں سٹرین میں فرق پروٹین کی وجہ سے ہوتا ہے، جو وائرس کی سطح پر موجود رہتا ہے۔

گزشتہ سال 2024 سے اب تک امریکہ میں ایچ 5 برڈ فلو کے 71 انسان مریض سامنے آ چکے ہیں، جن میں سے  بیشتر کی حالت زیادہ تشویش ناک نہیں تھی۔   حالانکہ رواں سال جنوری میں لوزیانا کے رہنے والے ایک شخص کی ایچ 5 این 1 کی زد میں آنے سے موت بھی ہوئی تھی۔