گورننس، شہباز شریف سے عثمان بزدار تک

گورننس، شہباز شریف سے عثمان بزدار تک

(قیصر کھوکھر) سابق وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف کے مقابلے میں موجودہ وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار سے معاملات کنٹرول نہیں ہو پا رہے ہیں۔ انتظامیہ بے لگام ہو چکی ہے۔ تحصیل اور ضلع کی سطح پر حالات انتہائی ابتر ہیں۔ سفارش اور رشوت کے بغیر کوئی بھی کام نہیں ہو پاتا۔ سیاسی مداخلت حد سے بڑھ گئی ہے اور اس وقت تمام قسم کے تقرر و تبادلے سفارش کلچرپر ہو رہے ہیں۔ میاں شہباز شریف کے دور میں سفارش کلچر موجود تو تھا لیکن اس نے اتنا زور نہیں پکڑا تھا جتنا اس دور میں ہے۔

 ایوان وزیر اعلیٰ ہر کام میں مداخلت کر رہا ہے۔ عثمان بزدار سے تو بیوروکریسی کنٹرول میں نہیں ہو رہی ،اسے یہ ہی پتہ نہیں کہ محکموں کو کس طرح چلایا جاتا ہے۔ اس وقت پنجاب میں لاہور ، ملتان، شیخوپورہ، راولپنڈی میں ڈینگی نے ایک بار پھر سر اٹھا لیا ہے۔یہاں شہباز شریف کی حکومت نے ڈینگی کو کنٹرول کرنے کیلئے کافی کام کیا تھا۔ محکمہ ہیلتھ کو سمجھ ہی نہیں آ رہی ہے کہ ڈینگی کو کیسے کنٹرول کیا جائے ۔ تمام محکمے اور اضلاع ڈینگی کے حوالے سے محکمہ ہیلتھ کی گائےڈ لائنز پر عمل نہیں کر پا رہے ہیں اور ڈاکٹر یاسمین راشد ڈینگی کو کنٹرول کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو رہی ہیں۔ لاہور، ملتان اور راولپنڈی میں ڈینگی کے حوالے سے اموات اور بے تحاشا مریض ہسپتالوں میں آ رہے ہیں۔ لاہور کے ہسپتالوں تک سے ڈینگی لاروا نکل رہا ہے ۔ حکومت کو یہ پتہ ہی نہیں چل رہا ہے کہ ڈینگی لاروا کو کس طرح کنٹرول کیا جائے ۔

 وزیر اعلیٰ نے ابھی تک ڈینگی کی روک تھام کےلئے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے اور نہ ہی کوئی اجلاس بلایا گیاہے۔ انہیں ڈی جی خان کی ترقی کے علاوہ کوئی کام ہی نہیں ہے۔ پنجاب حکومت ڈی جی خان اور میانوالی کیلئے خصوصی پیکیج کی تیاری کر رہی ہے کیونکہ یہ دونوں شہر وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم کے آبائی حلقے ہیں۔ جس انداز میں میاں شہباز شریف کے دور میں ترقیاتی کام ہو رہے تھے، اس انداز میں اب نہیں ہو رہے ۔ اب ترقیاتی کام سست روی کا شکار ہیں اور کئی محکمے اپنے سالانہ ترقیاتی بجٹ کو بروقت استعمال ہی نہیں کر سکے۔ جس سے کئی محکموں کا بجٹ استعمال نہ ہونے سے واپس محکمہ خزانہ کو چلا گیا ہے ۔ امن و امان کی صورتحال سب کے سامنے ہے۔

 پولیس سے حالات کنٹرول نہیں ہو رہے۔ ننھے بچوں سے زیادتی عام سی بات بن گئی ہے۔جو بات میڈیا میں رپورٹ ہو جاتی ہے اس پر کارروائی ہو جاتی ہے اور جو بات دور دراز علاقوں میں میڈیا پر رپورٹ نہیں ہوتی اس پر کوئی ایکشن نہیں ہوتا ہے۔ پنجاب میں اس وقت قتل، اغوا، ڈکیتی اور سنگین جرائم میں ہو شربا اضافہ ہو چکا ہے ۔ آر پی او اور ڈی پی او اپنے ٹھنڈے کمروں میں آرام میں مصروف رہتے ہیں اور فیلڈ اور تھانوں کا وزٹ ہی نہیں کیا جاتا ہے اور نہ ہی پولیس افسران عوامی فیڈ بیک لینے کیلئے کھلی کچہریاں لگاتے ہیں۔ بلدیاتی نمائندوں کو محض اس بنا پر گھر بھیج دیا گیا ہے کہ وہ نظام مسلم لیگ نون نے بنایا تھا۔ پنجاب کے مالی حالات ابتر ہو چکے ہیں۔ اس وقت خزانہ خالی ہے اور محکمہ پی اینڈ ڈی کو ترقیاتی منصوبے بروقت مکمل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ہسپتالوں کی نجکاری کی جا رہی ہے ۔

 تعلیم پہلے ہی نجی شعبہ کے پاس جا چکی ہے اور اب محکمہ ہیلتھ کے بھی بہت برے حالات ہیں۔ کینسر کے مریضوں کو مفت ادویات نہیں مل رہی ہیں۔ ہسپتالوں کی نجکاری کرنے سے ہسپتالوں میں علاج مزید مہنگا ہو جائے گا۔ میاں شہباز شریف کے دور میں کرپشن کم تھی لیکن آج تقرر و تبادلے بھی رشوت کے بغیر نہیں ہو رہے۔ہر کوئی مال کمانے میں لگا ہوا ہے اور عثمان بزدار کی انتظامی گرفت انتہائی کمزور ہے۔ بیوروکریسی وزیراعلیٰ کوخاطر میں ہی نہیں لا رہی ۔ شہباز شریف کے دور میں افسر شاہی شہباز شریف سے ڈرتی تھی اور الزام لگایا جاتا تھا کہ اوپر کی سطح پر منصوبوں میں پیسے بنائے جارہے ہیں لیکن اب توآوے کا آوا ہی بگڑا جا رہا ہے، پتہ ہی نہیں کہ حکومت کون چلا رہا ہے اور کس کا حکم پولیس اور انتظامیہ پر چل رہا ہے۔ مہنگائی کا جن بوتل سے باہر ہے اور ایک عام آدمی کی گزر اوقات مشکل ہو رہی ہے۔

 ادویات سے لے کر روزمرہ کی ہر چیز مہنگی تر ہو گئی ہے اور غریب پہلے سے بھی غریب ہو تا جا رہا ہے ۔ پنجاب میں اشیاءمہنگے داموں فروخت ہو رہی ہیں اور حکومت اس مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں مکمل ناکام ہے ۔صوبے میں بہتر پرفارمنس کیلئے وزیراعلیٰ کو ڈی جی خان سے باہر نکلنا ہوگا اور پورے صوبے کو متوازی انداز میں چلانا ہوگا، پورے صوبے کی ترقی پر توجہ دینا ہوگی۔ وزیراعلیٰ ابھی تک وزیراعلیٰ بن کر بھی خود کو تحصیل تونسہ کا ہی ناظم سمجھ رہے ہیں۔ جبکہ ان کی اس سوچ کے باعث پنجاب کے دیگر اضلاع نظرانداز ہو رہے ہیں۔ جبکہ شہبازشریف نے مانا کہ لاہور پر خصوصی توجہ دی تھی اور لاہور میں میٹرو بس منصوبہ اور اورنج ٹرین جیسے مثالی منصوبے شروع کئے لیکن انہوں نے صوبے کے دیگر اضلاع پر بھی توجہ مرکوز رکھی تھی۔

 یہی وجہ ہے کہ انہیں پورے صوبے کی خبرہوتی تھی اور پورے صوبے کی بیوروکریسی بھی ان کے ساتھ تھی۔ شہباز شریف نے ایک اچھے منتظم کا کردار احسن انداز میں نبھایا ہے، عثمان بزدار کو بھی اچھا منتظم بننا ہو گا۔ ایک ایسے وقت میں جب عثمان بزدار کی پارٹی میں بھی خفیہ مخالفت موجود ہے انہیں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ کیوں کہ وزیراعظم عمران خان نے ان پر اعتماد کیا ہے۔ اگر وہ وزیراعظم کے اعتماد پر پورے نہ اترے تو پھروہ کبھی اہم عہدہ حاصل نہیں کرپائیں گے۔ بڑے صوبے کے چیلنج بھی بڑے ہوتے ہیں اور وزیراعلیٰ کو اپنی سوچ کو وسعت دینی چاہیے

قیصر کھوکھر

سینئر رپورٹر