علی ساہی: محکمہ ایکسائز کی گاڑی رجسٹریشن کی اوپن پالیسی ٹریفک پولیس کے لیے مشکلات کا باعث بننے لگی، جہاں ایک ہی شہری کے نام پر سینکڑوں گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ای چالان وصولی میں رکاوٹوں کا انکشاف سامنے آیا ہے۔
مراسلے کے مطابق دوران چیکنگ ایسے کیسز سامنے آئے جن میں متعدد گاڑیاں غیر متوقع طور پر ایک ہی شخص کے نام پر رجسٹرڈ پائی گئیں، جس کے باعث اصل استعمال کنندگان تک پہنچنا اور ای چالان وصول کرنا مشکل ہو گیا۔
دستاویزات کے مطابق ایم جمشید نامی شہری کے نام پر 1,743 گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں جبکہ ان گاڑیوں پر مجموعی طور پر 2,295 ای چالانز اور 28 لاکھ روپے سے زائد واجبات موجود ہیں۔
اسی طرح باز محمد کے نام پر 421 گاڑیاں رجسٹرڈ ہونے کا انکشاف ہوا، جن پر 1,500 سے زائد ای چالان اور تقریباً 21 لاکھ روپے کے بقایاجات ہیں۔ جبکہ یوسف علی کے نام پر 69 گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں اور ان پر 368 ای چالان کے ساتھ تقریباً 5 لاکھ 90 ہزار روپے واجب الادا بتائے گئے ہیں۔
مراسلے میں نشاندہی کی گئی کہ گاڑی فروخت ہونے کے باوجود بروقت ٹرانسفر نہ ہونے سے پرانے مالک کا ریکارڈ استعمال ہوتا رہتا ہے، جس سے اصل مالک یا استعمال کنندہ کو ٹریس کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
اس صورتحال کے پیش نظر سی ٹی او نے محکمہ ایکسائز کو مراسلہ ارسال کرتے ہوئے متعدد تجاویز پیش کی ہیں، جن میں ایک فرد کے نام رجسٹرڈ گاڑیوں کی تعداد محدود کرنا، فروخت کے بعد فوری ٹرانسفر لازمی قرار دینا، کمپنیوں، بینکوں اور بڑے اداروں کے لیے الگ رجسٹریشن پالیسی بنانا اور ای چالان ڈیفالٹرز کو نئی گاڑی رجسٹر کرانے سے روکنا شامل ہے۔
مزید برآں، ایکسائز اور ٹریفک پولیس کے درمیان مؤثر ڈیٹا شیئرنگ کا مربوط نظام نافذ کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے تاکہ ای چالان وصولی اور گاڑیوں کی ٹریسنگ کا نظام بہتر بنایا جا سکے۔