جعلی لائسنس جاری کرنیوالے افسر برطرف کرنے کا حکم

 جعلی لائسنس جاری کرنیوالے افسر برطرف کرنے کا حکم

(مانیٹرنگ ڈیسک) پائلٹس کو جعلی لائسنس جاری کرنیوالے افسر برطرف کرنے کا حکم دے دیا گیا، سپریم کورٹ کی افسروں کیخلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کی ہدایت کردی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے کورونا ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی، این ڈی ایم اے کا نمائندہ عدالت میں پیش ہوا، سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ چین سے الحفیظ کے نام سے مشینری درآمد کی گئی، اس کے دستاویزات کہاں ہیں؟ گزشتہ 3 سماعتوں سے دستاویزات مانگے جا رہے ہیں، الحفیظ کیا ہے؟ کون ہے؟ مالک کون ہے؟ کچھ سامنے نہیں آیا، تین بار حکم دینے کے باوجود دستاویز کیوں نہیں دی گئیں؟

جسٹس اعجازالاحسن نے سوال کیا کہ جو مشینری چائنہ سے درآمد کی گئی اس کی قیمت کس نے ادا کی؟  جہاز چارٹرڈ کرنے اور اس کی ادائیگیوں کی تفصیلات کہاں ہیں؟ اس پر ڈائریکٹر ایڈمن این ڈی ایم اے نے بتایا کہ ایل سی کمپنی نے خریدی ہے اورکسٹم کو ڈیوٹی دی ہے، کمپنی کی مشینری این ڈی ایم اے نے امپورٹ نہیں کی۔

نمائندہ این ڈی ایم اے کے جواب پر چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی تک کمپنی کا مالک سامنے نہیں آسکا، اصل مسئلہ کسٹم اور دیگر قوانین پر عمل نا ہونا ہے،  عدالتی احکامات کو سنجیدہ تک نہیں لیا، کیوں نہ این ڈی ایم اے کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں، ہم یہاں وضاحت کیلئے نہیں بیٹھے، وزیراعظم کو کہہ دیتے ہیں کہ چیئرمین این ڈی ایم اے کو ہٹادیں کیونکہ عدالتی احکامات کی تضحیک کی گئی، ایک ہی کمپنی کو کیسے رعایت دی گئی، ہم وزیراعظم کو کہہ دیتے ہیں کہ سارا این ڈی ایم اے فارغ کردیں اور کسی کو ایک پیسہ بھی نہیں کھانے دیں گے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ شرم کا مقام ہے کہ پائلٹس کے لائسنس جعلی نکلے، بھیانک جرم کرنیوالے آرام سے تنخواہیں لے رہے ہیں، سول ایوی ایشن کی رپورٹ سوائے نااہلیوں کے کچھ نہیں۔ کیا لوگوں نے آپ کے کمپیوٹر میں گھس کر خود لائسنس بنالیے؟۔

چیف جسٹس نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ جعلی دوا بنانے اور بیچنے پر سزائے موت ہونی چاہیے، نان رجسٹرڈ دوائیں منگوانے کی اجازت کیسے دی؟ ڈریپ کی ملی بھگت کے بغیر کوئی دوائی نہیں آسکتی۔