ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

خان یونس سے عورتوں، بچوں کی انخلا کی فوٹیج، شہر پر بڑے حملے کی تیاری

 Israel's war in Gaza, City42, Israel Hamas conflict, Khan Younes evacuation, IDF, evacuation warning , Hamas
کیپشن: اس فوٹو میں خان یونس شہر چھوڑ کر جانے والوں کو دیکھا جا سکتا ہے، ان مین بظاہر زیادہ تعداد عورتوں کی ہے۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:   غزہ سے آنے والی فوٹیج میں خان یونس کے رہائشیوں کو IDF کے انخلاء کے حکم کے بعد بہت تھوڑے سامان کے ساتھ شہر سے نکلتے ہوئےدکھایا گیا ہے۔

اسرائیلی فوج کی طرف سے 19 مئی 2025 کو جنوبی غزہ کی پٹی کے مشرقی خان یونس سے انخلاء کے احکامات جاری کیے جانے کے بعد فلسطینی اپنے سامان کے ساتھ اپنے گھروں سے فرار ہو رہے ہیں۔ (روئیٹرز/ حاتم خالد)

غزہ کے ذرائع ابلاغ نے خان یونس سے لوگوں کے جلدی میں نکلنے کی فوٹیج شائع کی ہے جس میں بڑی تعداد میں مکینوں کو خان ​​یونس کے علاقے سے پیدل نکلتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

آج پیر کے روز دن  کے اوائل میں، IDF کے عربی زبان کے ترجمان نے خان یونس کی جنوبی آبادی میں ایک وسیع پیمانے پر انخلاء کا حکم جاری کیا جس میں رہائشیوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ المواسی کے علاقے میں منتقل ہو جائیں، اس انخلا کی وارننگ اس لئے دی گئی کہ اسرائیل خان یونس مین کوئی بہت بڑا آپریشن کرنے جا رہا ہے جسے آئی ڈی ایف کی طرف سے  خان یونس میں "بے مثال حملے" کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔


العربیہ نیوز کے مطابق ہزاروں رہائشیوں نے پہلے ہی انخلا شروع کر دیا ہے۔

حالیہ ہفتوں میں، غزہ میں IDF کے انخلاء کے احکامات کی نسبتاً کم تعمیل ہوئی ہے، دونوں رہائشیوں کی گوہیوں اور  UNRWA کے اعداد و شمار کے مطابق بہت سے لوگ علاقہ مین جنگی کارروائی کی پیشگی اطلاع ملنے کے باوجود علاقہ چھوڑنے سے انکار کر رہے ہیں۔

خان یونس شہر کو اسرائیل کی فوج نے  وار زون قرار دے دیا ہے جس کا مطلب ہے کہ وہ انخلا کے لئے عام شہریوں کو دی گئی مہلت گزرنے کے بعد  کہین بھی بمباری اور زمینی کارروائی کرے گی۔ 

خان یونس  7 اکتوبر  2023 کو اسرائیل پر حماس کے حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کے دوران شمالی غزہ کے بڑے چھوٹے قصبوں اور آبادیوں سے نکل کر آنے والوں کی بڑی منزل رہا تھا۔ اس دوران خان یونس شہر میں بہت سے وہ لوگ بھی آ گئے جو حماس کے کارکن تھے۔  42 روز کی جنگ بندی کے دوران حماس نے غزہ بھر میں واپس آنے والے فلسطینیوں پر دوبارہ اپنا کنترول قائم کیا تو خان یونس میں بھی واضح طور پر حماس کی عملداری دکھائی دی۔

 گزشتہ کئی ہفتوں سے غزہ کی ناکہ بندی کے دوران محدود فوجی کارروائیوں نے اسرائیل حماس کے نیٹ ورک کو توڑنے کے لئے سرگرداں رہا، اب وہ نسبتاً بڑی فوجی کارروائیوں کا آغاز کر رہا ہے۔

اس دوران حماس کی طرف سے خان یونس میں کوئی نظر آنے والی سرگرمی دکھائی نہیں دے رہی۔ 

ابتدائی خبروں سے یہ واضح نہین کہ جن لوگوں کو خان یونس شہر کی انتظامیہ تصور کیا جاتا ہے اور جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ حماس کا حصہ ہیں، کیا وہ اب بھی شہر کا انتظام چلا رہے ہین یا زیر زمین جا چکے ہیں۔

 2023 کے  7 اکتوبر کو  غزہ میں ائیر سٹرائیکس کے بعد بیشتر مقامات پر حماس کے مقرر کردہ انتظامیہ کے اہلکار موجود رہے تھے تاہم زمینی کاروائی کا اغاز ہوتے ہی وہ منظر سے غائب ہو گئے تھے۔