ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

"خوف کی وجہ سے خاموش رہا"؛ سہیل خان کا چونکا دینے والا انکشاف

Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: بالی ووڈ کے اداکار، ہدایت کار اور پروڈیوسر سہیل خان نے پہلی مرتبہ اپنی زندگی کے ایک نہایت تکلیف دہ باب سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ بچپن میں جنسی ہراسانی کا نشانہ بنے تھے۔ انہوں نے کہا کہ خوف، شرمندگی اور ذہنی دباؤ کی وجہ سے وہ کئی برس تک اس واقعے پر خاموش رہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق سہیل خان نے یہ انکشاف ریئلٹی شو "الائنس" میں گفتگو کے دوران کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کم عمری میں پیش آنے والے اس واقعے نے انہیں شدید ذہنی اذیت میں مبتلا رکھا، تاہم وہ طویل عرصے تک کسی کو اس بارے میں کچھ نہ بتا سکے۔

سہیل خان نے بتایا کہ بالغ ہونے کے بعد انہوں نے اپنے والد، معروف فلمی مصنف سلیم خان، کو اس واقعے سے آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق جب انہوں نے والد سے کہا کہ "میرے ساتھ بچپن میں یہ واقعہ پیش آیا تھا" تو سلیم خان اس انکشاف پر انتہائی رنجیدہ ہوگئے۔

اداکار نے کہا کہ ان کے والد کو اس بات کا سب سے زیادہ دکھ تھا کہ وہ اتنے سال تک یہ بوجھ اکیلے اٹھاتے رہے اور ان سے اس بارے میں بات نہ کر سکے۔

سہیل خان کے مطابق ایسے واقعات کے متاثرین اکثر خود کو ہی قصوروار سمجھنے لگتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں ان کی کوئی غلطی نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ شرمندگی اور خوف کی وجہ سے بہت سے لوگ برسوں خاموش رہتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس تلخ تجربے نے انہیں ایک والد کی حیثیت سے بھی بدل کر رکھ دیا ہے۔ اب وہ اپنے بچوں کو ہمیشہ یہ نصیحت کرتے ہیں کہ اگر اسکول، گھر سے باہر یا کسی بھی جگہ ان کے ساتھ ہراسانی، بدسلوکی، دھونس یا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آئے تو فوری طور پر انہیں اعتماد میں لیں۔

ان کے بقول وہ اپنے بچوں کو سمجھاتے ہیں کہ کسی بھی مسئلے کو دل میں دبانے کے بجائے والدین سے بلاجھجک شیئر کریں تاکہ بروقت مدد اور رہنمائی فراہم کی جا سکے۔

سہیل خان نے یہ بھی کہا کہ ریئلٹی شو میں شرکت ان کے لیے ایک منفرد تجربہ ثابت ہوئی، جس کے ذریعے انہیں نہ صرف اپنی شخصیت کو بہتر انداز میں جاننے کا موقع ملا بلکہ زندگی سے متعلق کئی اہم سبق بھی سیکھنے کو ملے۔

اداکار کے اس جذباتی اعتراف کو سوشل میڈیا پر بھی بھرپور توجہ مل رہی ہے، جہاں متعدد صارفین نے ان کی ہمت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے حساس معاملات پر خاموشی توڑنا ضروری ہے تاکہ متاثرہ افراد کو اپنی بات کہنے کا حوصلہ ملے اور خاندانوں میں کھلے مکالمے کی حوصلہ افزائی ہو۔